پاکستانی ائیر پورٹس پر جھگڑے کیوں ہوتے ہیں؟

0
88

اسلام آباد انٹر نیشنل ائیر پورٹ پر نارویجئین پاکستانی اور اصلی پاکستانی خواتین کی لڑائی جھگڑے کے منظر تو آپ نے دیکھ رکھے ہوں گے، اس پر روف کلاسرہ صاحب کا سنسنی خیز تبصرہ بھی شاید آپ نے سن رکھا ہو جس میں وہ وزیر داخلہ سے استعفی کا مطالبہ بھی کرتے نظر آتے ہیں،  کیس جوانہوں نے بیان کیا ہے کہ ان نارویجئن خواتین نے صرف ٹشو پیپر نہ ملنے کی شکایت کی تھی لیکن ایف آئی اے کی اہلکار نے بدتمیزی آغاز کردی ، معاملہ بڑھتا چلا گیا اور ایف آئی اے کی اہلکار خواتین نے ان کو اندر لے جا کر پیٹا اور لوگوں وہاں تماشائیوں کی طرح دیکھتے رہے۔ اس خبر کو ڈنمارک کے ایک بڑے اخبار نے بھی تقریبا اسی طرح رپورٹ کیا ہے، انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ وزیر داخلہ بھی اس معاملہ میں آ گئے ہیں اور انہوں نے ایف آئی اے کے دو اہلکاروں کو معطل کردیا ہے۔

ابھی کچھ اور ویڈیوز بھی منظر عام پر آئی ہیں جن میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ناروے پلٹ خواتین بھی طاقت یا مرتبے کے زعم میں دکھائی دیتی ہیں اور ایف آئی اے کے اہلکاروں کو خاطر میں لاتی دکھائی نہیں دے رہی، ان کا انداز خاصا جارحانہ ہے، اور بظاہر یہ لگ رہا ہے کہ ان خواتین نے بھی کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ اور ان کے ساتھ جو ہوا وہ ان کے اعمال کا نتیجہ تھا، چلئیے اس کیس کو تو یہیں چھوڑے دیتے ہیں، اگر عوام کی نظریں چند لمحوں کو پاکستانی ائیرپورٹس کی جانب ہوئی ہیں تو چند حقائق جان میں کچھ ہرج نہیں جو سمجھے بغیر آپ ائیر پورٹس پر ہونے والی بے ضابطگیوں کو نہیں سمجھ سکتے۔

پاکستان کے ہوائے اڈوں پر اترتے اور چڑھتے وقت ہی آپ کو پاکستان کی اصل تصویر نظر آنا شروع ہو جاتی ہے، جہاز سے اتر کر آپ لاوئنچ میں آئیں تو ایمگریشن سے بھی پہلے کچھ لوگ ہاتھ میں کارڈ اٹھائے آپ کے منتظر ہوتے ہیں ، یہ عموما زیادہ بڑی سفارشوں والے یا زیادہ طاقت والے لوگوں کے وصول کرنے والے ہوتے ہیں، ان کا کام آپ کو ایمگریشن کی قطار میں لگنے سے بچانا ہوتا ہے، یوں سمجھئے کہ بے ضابطگی کا اغاز اترتے ہی ہو جاتا ہے، ایمگریشن کے بعد ایف آئی اے، اور آخر میں کسٹم کے افراد آپ کا استقبال کرتے ہیں، مجھے آج تک ان ڈیسکوں پر پریشانی کا سامنا کرنا نہیں پڑا کیونکہ میں ہمیشہ کم سامان ساتھ رکھنے کا عادی ہوں اور نہ ہی کسٹم ایبل اشئیا پاکستان لے جانے کا تردد کرتا ہوں، لیکن جو سنا گیا ہے کہ کسٹم کے لوگ بھاو تاو کر کے لوگوں کو باہر جانے دیتے ہیں، اب اگر بات کی جائے عازم سفر ہونے کی تو ، آپ ائیر پورٹ پر داخل ہوتے ہیں تو سامان چیک کرنے والے بڑے واضح الفاظ میں یہ پیغام دیتے ہیں کہ روپے دو ورنہ سارا سامان کھول کر چیک کریں گے، اور پھر آپ ان کی مٹھی گرم نہ کریں تو آپ کے بیگ کھول کر سب ترتیب سے رکھی ہوئی چیزوں کا ستیا ناس مار کے رکھ دیں گے ، پچھلے دس سفروں میں دو دفعہ انہی لوگوں نے بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ رشوت کا مطالبہ کیا، اور مجھے یاد پڑتا ہے ایک دفعہ تو ایک صاحب نے اتنی محبت سے پیسے مانگے کے مجھ سے انکار نہ ہوسکا، کہنے لگا باو جی سفر پہ جا رہے ہیں، ہمارے بچے دعائیں دیں گے۔ اس مرحلہ کے بعد سامان جمع کروانے کی باری آتی ہے جہاں ٹاوٹ سرعام رشوت لیکر آپ کا سامان جلدی بجھواتے ہیں، پانچ سو سے ہزار روپیہ ان کو دیں وہ آپ کا سامان ایسے کاونٹر پر سے جمع کروادیں گے جہاں اور کسی مسافر کا سامان جمع ہی نہیں ہو رہا یا آپ اکانومی میں بھی ہیں تو سامان بزنس کلاس کے کاونٹر پر جمع ہو جائے گا، اس میں یہ سارا عملہ اور سامان ڈھونے والا ایک دوسرے کا دست و بازو بن کر ساتھ چلتے ہیں، ایک دوسرے سے حصہ وصول کرتے ہیں، لوگوں سے پیسے بٹورنے کے چکر میں  جان بوجھ کر مسافروں کو سامان جمع کروانے والی قطار میں کھڑا کیا جاتا ہے تاکہ لوگ فلائٹ مس کرنے کے ڈر سے رشوت دینے پر تیار ہو جائیں، اس ایریا میں جتنی بدنظمی پاکستانی ائیرپورٹس پر پائی جاتی ہے میں نے اجتک کسی اور ائیرپورٹ پر نہیں دیکھی۔ اس کے بعد پاسپورٹ کنٹرول کی لائن، پھر ایف آئی اے کی لائن اور پھر آپ لاونچ میں پہنچتے ہیں۔

جب آپ ائیرپورٹ پر آتے ہیں تو آپ کو لگنے لگتا ہے کہ یہاں ہر شخص بکاو مال ہے، کسی کی قیمت ٹکہ ہے اور کسی کی دو ٹکہ، کیونکہ وہاں لوگ بول بول کر بتاتے ہیں کہ میری یہ قیمت ہے، اگر خدانخواستہ سامان کچھ ایک دو کلو بڑھ جائے تو پھر سامان تولنے والوں کی مسکراہٹیں دیکھنے والی ہوتی ہیں ان کی سو فیصد کوشش ہوتی ہے کہ ان کا سودا ہو جائے اور مسافر کچھ دے دلا کر سامان ساتھ لے جائے۔

اس ماحول میں جب آپ دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ مجھ سے بعد میں آنے والا پہلے چلا گیا، میں قطار میں کھڑا ہوں اور کچھ لوگوں کو قطار میں کھڑا ہونے کی ضرورت ہی نہیں ہے تو دل پر ایک ضرب لگتی ہے، ائیرپورٹ کے عملے کی زیادتیوں پر سوشل میڈیا بلاگر علی ملک اپنا ذاتی تجربہ یوں بیان کرتے ہیں۔

اسلام آباد ائیرپورٹ پاکستان کا بدترین ائیرپورٹ ہے۔ یہ 2012 کی بات ہے تب میں مولوی روکڑا نہیں تھا، اور میں سات سال بعد پاکستان گیا تھا ، واپسی پر ایئر لائن کی گراؤنڈ سٹاف ( جو کہ ایک عورت تھی ) نے مجھ سے بتمیزی سے پیش آئی تھی ، لیکن اس نے غلط بندے سے بتمیزی کی تھی ، وہ ماں بہن ایک کی تھی کے پورے ایئر پورٹ نے سنا تھا ، اس کے حامیوں کو بھی اسی طرح سنائی تھی . زندگی میں نے اتنی گالیاں نہیں نکالی ہو گی جو اس دن نکالی تھی ، ان کی اوقات پانچ سو روپے سے زیادہ نہیں ہے ، پسنجر کو لوٹنا اور بے وقوف بنانا ان کا وطیرہ ہے ، پہلے پوچھتے کون سے علاقے سے ہو جیسے ہی کسی گاؤں یا دو دراز علاقہ کا سنتے ہیں تو آپ پر چڑھ دوڑتے ہیں ، کبھی کہتے ہیں کہ آپ کے ٹکٹ میں ائیرپورٹ ٹیکس ایڈ نہیں ہوا تو کبھی کچھ بھی بتا کر پیسے بٹور لیتے ہیں ، لیکن جب کوئی ان کو ان کی اوقات یاد دلاتا ہے تو تب ان کے ہوش ٹھکانے لگتے ہیں بات سیدھی سی ہے اسلام آباد ائیرپورٹ پر چور اور لٹیرے بیٹھ ہوۓ ہیں ، پاکستان سے آنے والے اور باہر

جانے والوں کو بس لالو پنجو سمجھتے ہیں

غرضیکہ بہت سے لوگ جب یہ سمجھنے لگ جائیں کے ہمارے سرکاری اہلکاروں کی اوقات پانچ سو روپے سے زیادہ کی نہیں ہے تو ان کی قانونی اور جائز بات پر بھی لوگ ناک بھوں چڑھاتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اہلکاروں جو پاکستان کا فرنٹ فیس ہیں، ان کی تربیت کی جائے، اور ائیر پورٹس پر موجود بے قاعدگیوں کو ختم کیا جائے، جو لوگ یا سرکاری اہلکار مسافروں کی مشکلات پر سے بھتہ کماتے ہیں ان کی اس بدمعاشی کا سدباب کیا جائے۔ لیکن ایسا گلہ کیا جائے تو کس سے کیا جائے، جب رشوت کی زنجیر میں جڑے سب لوگ اوپر سے نیچے تک بھائی بھائی ہیں تو ایسی شکایت کرنے والے کے لئے مشکلات پیدا کرنے کے علاوہ یہ لوگ کچھ اور نہ کرنا چاہیں گے۔

میری مراد صرف اتنی ہے کہ ائیرپورٹ پر سٹاف کی بدتمیزی کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے، جتنی دفعہ میں آیا ہوں ہر دفعہ سٹاف نے کوئی نہ کوئی نیا چاند ہی چڑھایا ہوتا ہے، اور لوگوں کے ذہنوں میں یہ بیٹھ چکا ہو کہ یہ سب بکاو مال ہیں تو وردی کی عزت و احترام کیونکر بحال ہو سکتی ہے۔

نوٹ۔ یہ بلاگ ایکپریس بلاگز میں چھپ چکا ہے




LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here