تقریر اور مباحثہ کے اشعار

0
136

کتاب سادہ رھے گی کب تک ، کبھی تو آغاز باب ھوگا 
جنہوں نے بستی اُجاڑ ڈالی ، کبھی تو اُنکا حساب ھوگا

سحر کی خوشیاں منانے والو ! سحر کے تیور بتارھے ھیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ھوگا

وہ دن گئے کہ جب ھر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چُپ تھے
اُٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئ تو پتھر اُسکا جواب ھوگا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here