تقریر کے اشعار

0
1371
صرف چند لوگوں نے حق تمہارا چھینا ہے
خاک ایسے جینے پر یہ بھی کوئی جینا ہے
بے شعور بھی تم کو بے شعور کہتے ہیں
اور یہ قصیدہ گو فکر ہے یہی جن کو
ہاتھ میں علم لیکر تم نہ اٹھ سکو لوگو
کب تلک یہ خاموشی چلتے پھرتے زندانو
دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لیکر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
اپنے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
میں خا ئف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہو ں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زندان کی دیوار سے
ظلم کی بات کو، جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا ، میں نہیں مانتا
تم نے لوٹاہے صدیوں ہمارا سکوں
اب نہ ہم پر چلے گا تمہارا فسوں
چارہ گر میں تمہیں کس طرح کہوں
تم نہیں چارہ گر، کوئی مانے مگر
میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا
یہ ملیں یہ جاگیریں کس کا خون پیتی ہیں
بیرکوں میں یہ فوجیں کس کے بل پر جیتی ہیں
کس کی محنتوں کا پھل واشنائیں کھاتی ہیں
جھونپڑوں سے رونے کی کیوں صدا ئیں آتی ہیں
جب شباب پر آکر کھیٹ لہلہا تا ہے
کس نے نین روتے ہیں کون مسکراتا ہے
کاش تم کبھی سمجھو کاش تم کبھی جانو
*****
بولنے پہ پابندی سوچنے پہ تعزریں
پاؤں میں غلامی کی آج بھی ہیں زنجیریں
آج حرف آخر ہے بات چند لوگوں کی
دن ہے چند لوگوں کا رات چند لوگوں کی
اٹھ کے درمندوں کے صبح و شام بدبو بھی
جس میں تم نہیں شامل وہ نظام بدبو بھی
دوستوں کو پہچانو دشمنوں کی پہچانو
*****
لائسنسوں کا موسم ہے کنونشن کو کیا غم ہے
آج حکومت کے در پر ہر شاہین کا سر خم ہے
*****
عام ہوئی غنڈا گردی چپ ہیں سپاہی با وردی
شمع نوائے اہل سخن کالے باغ نے گم کردی

دشمنوں نے جو دشمنی کہ ہے
دوستوں نے بھی کیا کمی کی ہے
خا شی پر س لوگ زیر عتاب
اور ہم نے تو بات بھی کی ہے
مطمئن ہے ضمیر تو اپنا
بات ساری ضمیر ہی کی ہے


شاعر حبیب جالب 

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.