یہ مملکت تو سب کی خواب سب کا ہے

0
165
یہ مملکت تو سب کی خواب سب کا ہے

جناب صدر! کوئی بھی مملکت زمین سے نہیں اگتی، زمین پر پائی جاتی ہے۔ اور
کسی مملکت کو پانے کیلئے زنجیروں کو چھوڑنا پڑ تا ہے۔ تقدیروں کو موڑنا پڑ
تا ہے ۔ شمشیروں کو توڑنا پڑتا ہے۔ پھر مملکتوں کے چہرے نمودار ہو تے ہیں۔
یہ ہماری مملکت خوابوں کی سر زمین ہے۔
جی ہاں جنابِ صدر! یہ مملکت تو سب کی ہے خواب سب کا ہے! یہ خواب ہے اس
بہن کا جس کے بھائیوں کو نیزوں کی انیوں پر اچھالا گیا۔ یہ خواب ہے اس باپ
کا، جس کے بڑھاپے کے سہارے کو کِر پانوں نے چیر ڈالا۔ یہ خواب ہے اس ماں
کا، جس کی مامتا کو بٹوارے کی آڑ میں بانٹ دیا گیا۔ یہ خواب ہے میرے اقبال
کا جو نیل کے ساحل سے
تا بخاکِ کاشغر، مسلمانوں کو جسدِ واحد بنانا چاہتا تھا۔ یہ خواب ہے قائد
کا ،جس کی آنکھیں نیند سے اس لئے روٹھی رہیں کہ ان آنکھوں میں پاکستان کا
خواب آبسا تھا۔ یہ خواب ہے اس بچے کا ،جس کی غلیل نے انگریزی جہازوں پر
شستیں باندھی تھیں۔ یہ خواب ہے اس بچی کا، جو گڑیوں کی شادی میں انگریزی
ٹائی والے گڈے نکا ل باہر کرتی ہے۔ یہ خواب ہے اس بخت نامہ کا جو آخری ہچکی
سے پہلے اپنے لہو سے آزادی کا لفظ مکمل کر تی ہے۔ یہ خواب ہے ان شہیدوں
کا، جنہوں نے اپنے لہو کی بوند بوند وطن کی ناموس پر وار ڈالی اور پھر بھی
ان مردانِ با صفا کی با ز گشت فضائے بسیط اب بھی گو نجتی ہے۔
کہ شہرِ جاناں میں باصفا رہا کون ہے
دستِ قاتل کے شایاں رہا کون ہے
رختِ دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمِیں قتل ہو آئیں یارو چلو!
جنابِ صدر! یہ مملکت ہم سب کی ہے۔۔۔۔۔۔ اس کےُ سکھ ہمارے سکھ۔۔۔۔۔۔ اس کے
دکھ ہمارے دکھ، لیکن یہ کس طرح کی محبتیں ہیں ، محبتیں ہیں کہ چاہتوں کے
سراب موسم کا سلسلہ ہے، کہ وطن کے ہر نئے افق پر ہر نیا شخص یہی سوال
دہراتا ہے۔
ابھی چراغِ سرِ راہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیءِ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دید ہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
کہ، یہ وہ وطن تو نہیں، جس کی آرزو لیکر ہم چلے تھے ۔ یہ وہ وطن تو نہیں،
جس کی خاطر میرے آباء نے قر بانیوں کی تاریخ رقم کی تھی۔ یہ وہ وطن تو
نہیں، جو خوابوں کی سر زمین تھا۔ یہ وہ وطن تو نہیں جو اسلام کی تجربہ گاہ
ہو نا تھا۔ آج ہر کوئی طعنہ بکف اپنے وطن کے گلے میں جوتوں کے ہار پہنا نے
پر تلا ہو ا ہے۔ ہر شخص یہی کہتا ہے
میرے دیس میں دھوکا ہے
میرے دیس میں ڈاکے ہیں
میرے وطن میں ناکے ہیں
مسجدوں میں بم دھماکے ہیں
چوری یہاں، لوٹ یہاں ، مار یہاں،کساد یہاں، فساد یہاں،غرضیکہ ہر برائی یہاں۔
یہ وہ سحر تو نہیں جسکی آرزو لیکر
چلے تھے یا ر کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
معزز سامعین! یہ مملکت سب کی ہے اور سب میں مَیں بھی شامل ہوں اور آپ
بھی۔۔۔ کیوں کہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ! آپ ایک ستارہ ۔۔۔ میں ایک
ستارہ ، پھر کیوں میرے دیس میں اجالا نہیں، پھر کیوں یہ خوابوں کی بستی بے
خواب پھرتی ہے۔ پھر کیوں یہاں اناج کی بجائے کانٹے بوئے جا رہے ہیں۔ پھر
کیوں یہاں لیلۃ القدر کی بجائے بسنت کی رات منا ئی جاتی ہے۔ پھر کیوں یہاں
نسلِ نو کے ہاتھوں میں کتابوں کی بجائے کلاشنکوف ہے۔
یہ وہی دیس ہے، جس کیلئے قر بانیاں تو دی گئیں لیکن اس کو سنبھا لا نہیں
دیا گیا۔ جس میں قوانین تو بنائے گئے، عمل درآمد مفقود ہو گیا۔ جس میں
زمینیں تو بٹیں لیکن جاگیرداروں کے حصے میں آئیں۔ جس میں کارخانے تو لگے ،
لیکن سر مایہ داروں کے پیٹ بڑھے ۔ جس میں انصاف تو ملا، لیکن صرف نوٹ
والوں کو ،اور تب تک یہاں اندھیرا ہی رہے گا، جب تک ہم اپنے خواب علیحدہ
رکھیں گے۔ اپنی سوچ علیحدہ رکھیں گے۔
شکوہ ء ظلمتِ شب سے تو کہیں بہتر تھا
ہم اپنے حصے کی شمع ہی جلا تے جاتے
آئیے مل کر وعدہ کریں کہ اس دیس کیلئے کچھ اچھا کریں گے ۔ گلے نہیں کریں
گے بلکہ صلے کی توقع کے بغیر وطن کیلئے جئیں گے اور وطن کے لئے مریں گے ۔

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں