کیا سوشل میڈیا پر سب لکھنے والے بلاگر ہیں؟

0
175

پچھلے سال انہی دنوں میں اردو بلاگرز کی تحاریر کو اکٹھا کرکے ایک کتابی صورت میں شائع کرنے کی خواہش مجھے بہت سے اخبار نویسوں سے ملوانے نکلی تھی، کتاب چھپ چکی تھی اور تقریب رونمائی کی تیاریاں زوروں پر تھیں۔ مہمانان گرامی کے نام فائنل ہو چکے تھے، تقریب کی صدارت کے لئے جس معزز ہستی کا نام چنا گیا تھا وہ صحافتی دنیا میں بتیس سال سے زائد عرصہ گذار چکے ہیں۔ ملک کے ایک مشہورو معروف روزنامے کے سنئیر ڈپٹی ایڈیٹر ہیں۔ ان کو دعوت دینے ان کے آفس گئے، کتاب پیش کی تو انہوں نے پہلا سوال ہی یہی پوچھا کہ اس میٹریل پر چیک اینڈ بیلنس کیا ہے، سوشل میڈیا پر تو کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے، اپنے بلاگ میں لکھنے والا جو چاہے لکھتا رہے اس پر کنٹرول کون کرتا ہے۔ ایک روایتی اخبار کے ایڈیٹر کو اس طرح کی پریشانی لاحق ہونا قابل فہم ہے کہ جہاں اخبار کا ایک ایک لفظ تراش خراش اور پورے ناپ تول کے ساتھ صفحات میں جوڑا جاتا ہوں، وہاں بے ربط، غیر موزوں، اور مہمل باتوں کی گنجائش کیونکر نکل سکتی ہے۔
ایسے میں اس سال کے اسی مہینے میں سوشل میڈیا پر کچھ بلاگرز کے غائب ہونے کی خبر خاصی گرم ہے، پچھلے سال کی حد تک اکثر و بیشتر بلاگرز سے میرا رابطہ رہا، اس لئے کسی نہ کسی حوالے سے اپنے بلاگ پر لکھنے والوں سے آشنائی ہوتی چلی آئی، لیکن پچھلے سال میں ہی مشترکہ بلاگ کی ویب سائٹ پر بہار آئی تو بہت سے نئے لکھنے والوں کی ایک نئی پود نے جنم لیا، ان میں سے اکثریت سے میری آشنائی نہیں۔ اب اس وقت میں اتنی بلاگ ویب سائٹس موجود ہیں کہ مجھے ایک بلاگر ہوتے بھی سب کے نام یاد نہیں۔ لیکن ان سب بلاگرز کے بارے ایک بات کہی جا سکتی ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو نام اور چہرہ رکھتے ہیں۔ ان کی کوئی پہچان ہے۔ ان کی تحریر کا کوئی رابطہ ہے، جہاں آپ ان سے رابطہ کر سکتے ہیں، تنقید و توصیف کر سکتے ہیں۔ ایک بلاگ بنانا، یا بلاگر ہونا آپ کو کسی ایڈیٹر کی قینچی سے تو بچا سکتا ہے مگر اس سے آپ پر ذمہ داری کا بوجھ ایک گنا بڑھ جاتا ہے۔ آپ کے لکھے ہوئے میٹریل کے زمہ دار آپ خود ہوتے ہیں، اس میں لکھی جانے والی تما م اشئیا کی اخلاقی ذمہ داری آپ پر ہوتی ہے، آپ کے لکھے ہوئے اعدادو شمار کی جانچ پرکھ کرنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔ اس لئے اپنا بلاگ لکھنے والے ایک ذمہ داری کی ڈور سے بندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ویسے بھی بلاگ ایک ذاتی ڈائری کی مانند ہے اور لوگ اپنی ذات کے آئینے میں دنیا کو دیکھتے ہیں، اور یہ زیادہ تر اپنے متعلقہ شعبہ ہائے زندگی پر ہی محیط ہوتا ہے، اس لئے دنیا میں لوگ مستند آرا کے لئے بلاگز کو زیادہ پسند کرتے ہیں۔
جہاں ان بلاگز نے لکھنے والوں کے لئے اظہار کے نئے دروازے کھولے ہیں، وہاں کچھ شرپسند ایسے سوشل پلیٹ فورم کو اپنے مضموم مقاصد کے لئے استعمال کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے، سوشل میڈیا کی طاقت کو پروپگنڈا کے زہر میں بجھا کر نئی نسلوں کے ذہنوں کو انجانی راہوں پر ڈالنا قدرے آسان ہے۔ اور خصوصا ایسے وقت میں جب نئی نسل سوشل میڈیا کی دنیا میں ہی جیتی ہو، ان کے اردگرد جھوٹی سچی معلومات کی ملمع کاری سے متوقع نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں۔
جہاں بے شمار بلاگرز اپنے ناموں اور برانڈز کے ساتھ سوشل میڈیا پر جلوز افروز ہیں ویسے ہی کچھ بے نام اور بے چہرہ لوگ بھی اپنی اپنی مچانیں سنبھالے موقع کی تلاش میں ہیں۔ ایک بلاگر ہوتے ہوئے میری سوچ سے بالاتر ہے کہ کوئی کیونکر کسی اور چہرے کے پیچھے چھپ کر اپنے خیالات کا پرچار کرتا ہے؟ ایسے بے چہرہ لوگ کسی نہ کسی محرومی یا خوف کا شکار ہوتے ہیں، ان کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ اگر وہ سامنے آئیں گے تو لوگ ان کی بات سننا بھی گوارہ نہ کریں گے یا ان کے درپے ہو جائیں گے۔ شاید اس لئے وہ عجیب و غریب ناموں اور نقابوں کا سہارا لیتے ہیں۔
اب ایسے وقت میں جہاں سوشل میڈیا پر لکھنے والوں پر تنقید کی جا رہی ہے میرے خیال میں بہت بہتر ہو گا کہ احباب بلاگرز اور بے نام لکھنے والوں کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ جیسے کسی نے کہا تھا کہ
تیری کہانی میری کہانی سے مختلف ہے
جیسے آنکھوں کا پانی ، پانی سے مختلف ہے
ایسے اپنے نام اور چہرے سے لکھنے والے ہر شخص کی کہانی سوشل میڈیا کے بے نام کرداروں سے مختلف ہے۔ پچھلے دنوں اردو کے اولین بلاگرز میں سے ایک خاور کھوکھر سے پانامہ لیکس پر بات ہو رہی تھی ، قطری شہزادوں کے خط کو لیکر شریف فیملی پر طرح طرح کے فقرے چست کئے جا رہے تھے، ایسے میں ذومعنی فقروں کے ساتھ ساتھ غیر اخلاقی فقروں کی بھی بہار تھی، ایسے میں خاور کا موقف یہ تھا کہا کہ کھل کہ تو وہی لکھ سکتا ہے جس کے پاس جعلی اکاونٹ ہے۔ ورنہ ہم جن معاشرتی اقدار کا حصہ ہیں اس میں ہم لوگوں کے عیوب پر پردہ ہی ڈالتے ہیں۔ غرضیکہ ہر لکھنے والے کی طرح سے بلاگرز بھی اس ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں کہ انہیں عوام الناس میں کیا بات کہنی ہے۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے کہ الفاظ کا چناو کچھ غیر مناسب ہو، کچھ لہجہ تیکھا اور ترش ہو مگر جب بھی آپ اپنے نام اور چہرے کے ساتھ بات کرتے ہیں آپ احساس ذمہ داری کھونے نہیں دیتے۔
میرے خیال میں احباب کو یہ فرق جاننا ہو گا کہ سوشل میڈیا پر ہر لکھنے والا بلاگر نہیں ہوتا، جیسے درجنوں پردہ نشین کاغذوں کی بجائے دیواروں پر لکھنا پسند کرتے ہیں، کچھ لوگوں کی کریٹوٹی تو پبلک ٹائلٹس میں جا کر جاگتی ہے، ایسے سبھی لکھنے والے کو شاعر مصنف نہیں کہا جا سکتا، ٹھیک ایسے ہی سوشل میڈیا پر اپنی پہچان چھپا کر لکھنے والوں کو بلاگر نہیں کہا جا سکتا۔
پچھلے کچھ عرصہ میں اپنے اصل ناموں کی بجائے تخلص یا تخلیقی ناموں سے لکھنے کا رجحان بھی رہا ہے، جیسے لفظ بابا کئی لکھنے والوں نے استعمال کیا ہے،لیکن سوشل میڈیا کے ان بابوں میں سے زیادہ تر اپنے اصل نام کے ساتھ بھی جانے جاتے ہیں، لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جو چراغ، شمع، بھنورا قسم کے نام رکھ کر حدود و قیود سے آزاد نظر آتے ہیں۔
لیکن یہ بات قابل غور ہے کہ جو لوگ بھی اپنے بلاگ لکھ رہے ہیں، وہ جب بلاگ کا نام خریدتے ہیں یا کسی سوشل پلیٹ فارم پر اکاونٹ بناتے ہیں، اصل میں وہ بھی کسی اخبار کی طرح ایک ذمہ داری کی ڈور سے بندھتے ہیں، ایسی اخلاقی ذمہ داری کہ جیسے کوئی بھی ذی شعور انسان کسی محفل میں بیٹھ کر اخلاق سے گری بات نہیں کر سکتا، بالکل ایسے ہی وہ اپنے بلاگ پر بھی اس اخلاقی معیار کو برقرار رکھتا ہے۔ روایتی قاری کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سینکڑوں بلاگرز انٹرنیٹ پر خیال و خوبی کے پھول کھلا رہے ہیں، ان کو پڑھئیے، ان تک پہنچئیے، اور دو چار لوگ جن کی اصل پہچان سے کوئی بھی آشنا نہیں ان کو شاید بلاگر کہنا بھی مناسب نہ ہو گا۔

Note. یہ بلاگ ڈان بلاگز میں چھپ چکا ہے۔ http://www.dawnnews.tv/news/1050551/16jan2017-blogger-kon-ramzan-rafique-aa-bm

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here