ڈنمارک کا جغرافیہ

0
466

ڈنمارک کا کل رقبہ 43098 کلومیٹر سکوائر ہے، یہ یورپ کے چند چھوٹے ملکوں میں سے ایک ہے، جرمنی اس سے آٹھ گنا بڑا ہے اور فرانس تقریبا بارہ گنا بڑا ہے۔

ڈنمارک نارڈک ریجن کا حصہ ہے، جس میں ڈنمارک بشمول گرین لینڈ اور فیرو آئی لینڈ، سویڈن، ناروے ، فن لینڈ بشمول اولینڈ، اور آئس لینڈ شامل ہیں۔

ڈنمار کی کی ہسٹری آئس ایج تک جاتی ہے، جو مکمل طور پر برف سے ڈھکی ہوئی تھی، اور کہیں کہیں یہ تہہ دو کلومیٹر موٹی تھی، یہ برف 11500 سال پہلے پگھلی اور آج یہ سرزمین ڈنمارک ہے۔

ڈنمارک کا سب سے اونچا حصہ جو سطح سمندر سے اونچا ہے 170 میٹر ہے۔ ڈنمارک کی زیادہ تر زمین زرخیز ہے، کلے والی اور سینڈی زمین ہے۔ لیکن کچھ جگہوں پر یہ مختلف بھی ہے۔ جیسا کہ مشرقی طرف کے ایک جزیرہ پر ایک 130 میٹر اونچی پہاڑی بھی ہے۔ برانہولم کا جزیرہ، جزیروں کا مجموعہ ارتھولمین بھی ہے جو کے بالٹک میں خاصا آگے موجود ہے۔ ڈنمارک کے صرف ایک طرف سرحد موجود ہے، پہلے پہل ڈنمارک میں جنگل ہی تھے لیکن اب دو تہائی زمین قابل کاشت بنائی گئی ہے۔

ڈنمارک ایک جزیرہ نما یعنی پینی سولہ اور 407 جزیروں پر مشتمل ہے، صرف 80 جزیروں پر لوگ رہتے ہیں، باقی چھوٹے ہیں اور بے آباد ہیں۔ سب سے بڑا جزیرہ شی لینڈ ہے، شی لینڈ کے ساوتھ میں لولینڈ اور فالسٹر کا جزیرہ ہے۔

بہت سے جزیرے ہونے کی وجہ سے ڈنمارک کے پاس بہت زیادہ ساحل ہیں، ان میں 7300 کلومیٹر نارتھ سی لمبا ترین ساحل ہے۔

صرف سنا یولینڈ، اور جنوبی یو لینڈ ہے جہان زمین سرحد موجود ہے جو کہ جرمنی کے ساتھ ہے۔

ڈنمارک بہت سے پلوں کے ساتھ جڑا ہوا ہے، سن 1935 میں پہلا پل لل بیلٹ پر بنا یولینڈ اور فوئن کے مابین۔ اور سن 1970 میں ایک اور  لل بیلٹ بنا۔ جبکہ سن 1998 میں سٹوا بیلٹ برو بنا شی لینڈ اور فوئن کے مابین۔ اور سن 2000 میں اورےسنڈ برو سے شی لینڈ اور سویڈن ایک دوسرے سے جڑے۔

ڈنمارک کا دارلحکومت کوپن ہیگن سے بڑا شہر ہے، یو لینڈ کا سب سے بڑا شہر ارہوس ہے، اور فوئن کا سب سے بڑا شہر اوڈنسے ہے۔ یہ ملک کا تیسرا بڑا شہر ہے۔ لفظ کوپن ہگن کا مطلب خریداروں کی بندرگاہ ہے۔

سن 1100 میں کوپن ہیگن مچھیروں کا مسکن تھا، سن 1167 میں بشپ ابسلان نے ایک قلعہ تعمیر کروایا اور یوں کوپن ہیگن کی بنیاد پڑی۔ آج ہر چار میں سے ایک ڈینش کوپن ہیگن یا اس کے اردگرد آباد ہے۔

سلطنت ڈنمارک میں گرین لینڈ اور فیرو آئی لینڈ بھی شامل ہیں، باقی چیزوں کے ساتھ ان میں شہریت بھی مشترکہ ہے،  گرین لینڈ دنیا کا سب سے بڑا جزیرہ ہے، اور شمال کی جانب واقع ہے، شمال مشرقی کینڈا کے پاس۔ گرین لینڈ کا زیادہ تر حصہ برف سے ڈھکا ہوا ہے، 55000 ہزار باشندے ساحل کے پاس بستے ہیں، تقریبا 17000 لوگ دارالحکومت نیوک  میں رہتے ہیں جسے گوڈ ہوپ بھی کہتے ہیں۔

فیرو آئی لینڈ 18 جزیروں کا مجموعہ ہے ، جو انٹلانٹک اووشن میں سکاٹ لینڈ، آئس لینڈ، اور ناروے کے درمیان موجود ہے۔ فیرو آئی لینڈ کی آبادی 50،000  ہے، جن میں سے تقریبا 20000 اس کے دارلحکومت تورسہاون میں رہتے ہیں۔ جو کہ اس کا سب سے بڑا شہر بھی ہے۔

پچھلے کچھ سالوں میں ڈنمارک کے پاس سب سے قیمتی را میٹریل اس کا تیل اورقدرتی گیس ہے۔ جو کہ نارتھ سی کے ڈنمارک والے حصے میں پایا گیا ہے۔ سن 1990 سے ڈنمارک نے زیادہ انرجی ایکسپورٹ کی بمقابلہ اس کی امپورٹ کے۔ اس لئے تیل اور گیس کا نکالنا ڈینش اکانومی کے لئے بہت اہم ہے۔ کیونکہ ذخیرے مستقل قائم نہیں رہ سکتے ، اس لئے 1985 میں پارلیمنٹ نے ایک ریزولیشن پاس کیا کہ ایمٹی انرجی کے علاوہ مستقبل کی انرجی کا حل ڈھونڈا جائے۔ بہت سے ملکوں کی طرح ڈنمارک بھی ری نیو ایبل انرجی کے ذرائع تلاش کرتا ہے، اس لئے موجودہ سالوں میں بہت سی ونڈ ٹربائنیں لگائی گئی ہیں، آج ڈنمارک ونڈ ٹربائنوں کا بڑا ایکسپورٹر ہے، اور ونڈ انرجی کے معاملہ میں دنیا کو لیڈ کر رہا ہے۔

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں