پاکستان میں فری لانسنگ حال و مستقبل

0
170

پچھلے سال انہی صفحات پر فری لانسنگ کے مستقبل کے بارے لکھا تو ایک قاری نے خوبصورت تجزیہ لکھا کہ سستے انگریزی بلاگز کا چربہ پیش نہ کریں، لوگوں کو گمراہ نہ کریں، آپ نے خود کیا کمایا۔ اور آجکل اس بات پر بحث چل رہی ہے کہ ایف بی آر فری لانسنگ پر ٹیکس لگانے کے متعلق غور کر رہی ہے۔ صرف ایک پلیٹ فارم پائینیر کے توسط 60 ارب روپے کے لگ بھگ رقم پچھلے اڑھائی سالوں میں پاکستان میں آئی، اس کے علاوہ پاکستانی فری لانسرز نے کئی ایک جگاڑوں کے ذریعے اربوں روپے اور بھی کمائے ہیں۔ اس بات پر اب بحث کی گنجائش ہے ہی نہیں کہ فری لانسنگ ایک ٹھوس حقیقت ہے اور اس سے اچھے خاصے پیسے کمائے جا سکتے ہیں، پچھلے سال میں نے ایمزون کنڈل پر کتابیں شائع کرنے کا ایک سلسلہ آغاز کیا ، جو اب بھی کسی نہ کسی انداز میں چل رہا ہے، ہم نے چھ سوڈالر کے لگ بھگ کی کتانیں بیچیں، لیکن کتابوں پر مارکیٹنگ کے اخراجات نکالنے کے بعد کسی بڑے منافع تک نہیں پہیچنے اس لئے ہمارے اپنی کامیابی کی ذاتی کہانی ابھی زیر تعمیر ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ فری لانسنگ سے آنے والی خطیر رقم کو تاعمر ٹیکس سے استشنا نہیں دیا جا سکتا، لیکن ایک ایسے وقت میں جہاں ابھی یہ انڈسڑی پوری سے طرح سے اپنے پاوں پر بھی کھڑی نہیں، فری لانسرز پر کریک ڈاون طرز کی خبروں کا باہر آنا بہت سے لوگوں کے لئے باعث تشویش ہے۔ کیونکہ یہ فری لانسر پہلے سے ہی اس سفر پر خاصے تنہا ہی تھے، آمدن پاکستان لانے کے لئے کوئی موثر گیٹ وے نہ ہونے کی وجہ سے سے ان بے چاروں کو جو پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں یہ ان کو ہی پتا ہے، اپنے غیر ملک میں مقیم رشتہ داروں پر انحصار اور چالاک انویسٹرز کو ایک اچھا خاصا حصہ یا بھتہ دے کر اپنے روپے وصول کرنا ، کلانٹیس کے ناز نخروں اور ایک آن لائن کاروبار کو چلانا یہ کوئی آسان کام نہیں ہے۔

سب سے پہلے تو فری لانس کے پلیٹ فارم اپنی فیس کے نام پر پانچ فیصد سے لیکر بیس فیصد تک حصہ کاٹ لیتے ہیں، اور پے منٹ گیٹ وے کے مسائل کی وجہ سے جو ایک آدھ کمپنی ان کے روپے پاکستان پہنچانے کا تردد کرتی ہے وہ ڈالر کو روپے میں کنورٹ کرتے ہوئے من مانی قیمت دیتی ہے، جس سے محنت کی کمائی  پہلے ہی کم ہوکر ملتی ہے۔ ایسے میں اس پر ٹیکس والوں کا ایک گھاو اور لگادیا جائے تو یہ ان محنتی لوگوں کی جیب کو اور ہلکا کر جائے گا۔

میرے خیال میں اتنی خطیر رقم کے اشارے ملنے کے بعد حکومت کو فری لانسنگ انڈسٹری کو بہت سیرئس ہو کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ میرا یقین ہے کہ اگر حکومت ان نوجوان فوج کی مدد کرے تو پاکستان کی آن لائن آرمی دنیا میں اپنے ہنر کا لوہا اس انداز میں منوا سکتی ہے کہ پاکستان کی اکانومی پر اس کا ایک بڑا مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔

فری لانسر کا سب سے بڑا مطالبہ انکم گیٹ وے کا حل ہے، کہ باہر کی آمدنی کا پاکستان کیسے لایا جائے؟ پے پال یا اس طرز کا ایسا قابل بھروسہ حل جس پر دنیا بھر میں کسی کو بھی کاروبار کرنے میں اعتراض نہ ہو۔

اچھی سپیڈ کا انٹرنیٹ حکومت کی اولین ترجیح ہو  کیونکہ میرا واسطہ میرے لئے فری لانسنگ کرنے والے دوستوں سے جب بھی ہوتا ہے، ان کی طرف سے آنے والے فائلیں سست انٹرنیٹ کی وجہ سے وقت پر پہنچ نہیں پاتی، کیونکہ ڈائزئن والی اکثر فائلوں کے سائز بڑے ہوتے ہیں جو کو اپلوڈ کرنے میں وقت لگتا ہے اور ایسے میں لوڈ شیڈنگ کے مارے ہوئے میرے دیس میں فری لانسرز کی فائلوں کے ساتھ جو بیتتی ہے اس پر کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔

اس وقت میری نظر میں ایمزون اور اس کے متعلق دی جانے والی  سروسز میں ہمارے پاکستانی نوجوان بہت ہنرمند ہیں، لیکن افسوس کے ایمزون پر پاکستان سے اکاونٹ بنانا یا پاکستان سے کام کرنا کھلے انداز میں ممکن نہیں، اس ضمن میں تین چار بڑے فری لانس گروپ پاکستان میں لاکھوں جاب کریشن اور کروڑوں روپیہ پاکستان لانے کا وژن رکھتے ہیں، ایک دو گروپس نے تو پاکستان کے کئی ایک شہروں میں اپنے مراکز تک قائم کر لئے ہیں، اور پچھلے ایک سال کے اندر ان گروپس کے ممبران کی تعداد میں اضافہ لاکھوں کے حساب سے ہوا ہے۔ ان سکلز کو سیکھ کر بہت سے لوگ اچھی آمدن کما رہے ہیں۔

فیورر، اور اپ ورک پر سینکڑوں پاکستانی چھوٹے چھوٹے گگز بنا کر اپنا ہنر دنیا کو بیچ رہے ہیں، اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب زیادہ تر نے اسی انٹرنیٹ کے فری لانسر سے سیکھ رکھا ہے۔ یعنی ایک ایسا شاندار ایکو سسٹم وجود میں آ چکا ہے کہ سکھانے والے اور سیکھینے والوں کی ٹیمیں بن چکی ہیں۔ بس اگر کمی ہے تو ایک حکومتی شاباش کی۔

چاہئیے تو یہ  کہ اتنی خطیر رقم کی خبر بریک ہونے کے بعد وزیراعظم ان آن لائن سپاہیوں سے خود ملیں، بالکل ایسے ہی جیسے وہ سوشل میڈیا سٹارز کے ساتھ ملے تھے، ان کے کاندھوں پر تھپکی دیں، ان سے پوچھیں کہ ان کے بنیادی مسئلے کیا ہیں، اور ان کو فوری طور پر حل کرنے کے لئے اپنی سربراہی میں ایک کمیٹی بنا دیں۔ مجھے یقین ہے کہ پاکستان کے یہ ہنر مند فری لانسرز دنیا کو ایک نئے انداز میں فتح کرسکتے ہیں۔

یہ فری لانسرز محنتی لوگ ہے جو ٹیکس سے بھاگنے والے نہیں، اپنی محنت پر یقین رکھنے والے اور نئے جہاں تراشنے والے ہیں۔  اگر بنا کسی سرکاری سرپرستی کے یہ کارنامے سرانجام دے رہے ہیں تو ذرا سی شاباش اور مدد کے بعد ان کے رنگ ڈھنگ دیکھنے والے ہوں گے۔ انشااللہ یہی نوجوان دنیا میں میرے پاکستان کا روش چہرہ بنیں گے۔

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.