Opens in a new tab

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے

دسمبر 18, 2012  ·  1 منٹ کا مطالعہ

اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لئے دوگام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
اے دل کی خلش چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ ِمحبت میں کوئی در پیش جو مشکل آ جائے

شاعر
بہزاد لکھنوی

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←