اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟ نظم فیض

2
1655
فیض احمد فیض صاحب کا نئے سال سے سوال؟

Faiz Ahmad Faiz


اے نئے سال بتا، تُجھ ميں نيا پن کيا ہے؟

ہر طرف خَلق نے کيوں شور مچا
رکھا ہے
روشنی دن کی وہی تاروں بھري رات وہی
آج ہم کو نظر آتي ہے ہر ايک
بات وہی
آسمان بدلا ہے افسوس، نا بدلی ہے زميں
ايک ہندسے کا بدلنا کوئي
جدت تو نہيں
اگلے برسوں کی طرح ہوں گے
قرينے تيرے
کسے معلوم نہيں بارہ مہينے تيرے
جنوري، فروري اور مارچ ميں پڑے
گي سردي 
اور اپريل، مئي اور جون ميں ہو گي گرمي
تيرا مَن دہر ميں کچھ
کھوئے گا کچھ پائے گا 
اپنی ميعاد بَسر کر کے چلا جائے گا
تو نيا ہے تو
دکھا صبح نئي، شام نئی
ورنہ اِن آنکھوں نے ديکھے ہيں نئے سال کئی
بے سبب
لوگ ديتے ہيں کيوں مبارک باديں
غالبا بھول گئے وقت کی کڑوي ياديں
تيری آمد
سے گھٹی عمر جہاں سے سب کی
فيض نے لکھی ہے يہ نظم نرالے ڈھب کی

2 تبصرے

  1. محسن نقوی کی ایک نظم
    نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!
    میرے آنسوؤں کے شکستہ نگینے
    میرے زخم در زخم بٹتے ہوئے دل کے
    یاقوت ریزے
    تری نذر کرنے کے قابل نہیں ہیں
    مگر میں
    (ادھورے سفر کا مسافر)
    اجڑتی ہوئی آنکھ کی سب شعائیں
    فِگار انگلیاں
    اپنی بے مائیگی
    اپنے ہونٹوں کے نیلے اُفق پہ سجائے
    دُعا کر رہا ہوں
    کہ تُو مسکرائے!
    جہاں تک بھی تیری جواں روشنی کا
    اُبلتا ہوا شوخ سیماب جائے
    وہاں تک کوئی دل چٹخنے نہ پائے
    کوئی آنکھ میلی نہ ہو، نہ کسی ہاتھ میں
    حرفِ خیرات کا کوئی کشکول ہو!

    کوئی چہرہ کٹے ضربِ افلاس سے
    نہ مسافر کوئی
    بے جہت جگنوؤں کا طلبگار ہو
    کوئی اہلِ قلم
    مدحِ طَبل و عَلم میں نہ اہلِ حَکم کا گنہگار ہو
    کوئی دریُوزہ گر
    کیوں پِھرے در بدر؟

    صبحِ اول کے سورج!
    دُعا ہے کہ تری حرارت کا خَالق
    مرے گُنگ لفظوں
    مرے سرد جذبوں کی یخ بستگی کو
    کڑکتی ہوئی بجلیوں کا کوئی
    ذائقہ بخش دے!
    راہ گزاروں میں دم توڑتے ہوئے رہروؤں کو
    سفر کا نیا حوصلہ بخش دے!
    میری تاریک گلیوں کو جلتے چراغوں کا
    پھر سے کوئی سِلسلہ بخش دے،
    شہر والوں کو میری اَنا بخش دے
    دُخترِ دشت کو دُودھیا کُہر کی اک رِدا بخش دے
    .

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں