لزبن میں تین دن

0
219
میری اگلی منزل پرتگال کا دارلحکومت لزبن تھا،
سمندر کے کنارے واقع اس ساحلی شہر میں وہ سب کچھ تھا جس کی امید کی جا سکتی تھی، غیر
ملکیوں کو راستہ سمجھانے والے مہربان لوگ، بڑے بڑے شاپنگ مالز، سیاحت کو فروغ دینے
والے ادارے اور سیاحت سے متعلق ڈھیروں سروسز جس میں اوپن چھتوں والی سیاحتی بسیں،
ایک کنارے سے دوسرے کنارے جاتے ہوئے بحری جہاز، اور لزبن میں تو پانی پر چلنے والی
بسیس، اور سڑکوں پر بجلی سے چلنے والے رکشے بھی گاہے گاہے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔
لزبن میں پہلا دن
کچھ دن کے گیارہ بجے کے قریب لزبن کے ائیرپورٹ
پر پہنچا، مہربان دوست اسلم صاحب ائیرپورٹ پر خوش آمدید کہنے کے لئے آئے ہوئے تھے،
رات فلائیٹ چلنے سے پہلے ہی انہوں نے کہہ رکھا تھا کہ جہاز میں ناشتہ نہ کیجئے گا
میں پائے بنا رکھوں گا ، سیدھا ناشتے کی میز پر پہنچے جہاں ورلڈ کلاس قسم کے پائے
میرے منتظر تھا، پردیس میں پائیوں جیسی سوغات کا ملنا کوئی پردیسوں کے دل سے
پوچھے۔ ڈٹ کر ناشتہ کھڑکایا اور شہر کی سیر کو نکل پڑے، ابھی پہلی گلی کے پہلے چوک
تک ہی پہنچے ہوں کے کچھ آشناوں کی شکل دکھائی دینے لگی۔ آپ کو تو پتہ ہے کہ میری
پھولوں پودوں سے آشنائی بڑی پرانی ہے، سٹرکولیا کا ایک خوبصورت درخت مجھے دیکھ کر
ہاتھ ہلا رہا تھا، میں نے پوچھا کہ تم یہاں بھی ہو، اس نے کہا حضور میں تو ادھر ہی
ہوتا ہوں، میں نے اسے بتایا کہ اس کے بھائی بہنوں سے باغ جناح لاہور میں بڑی
ملاقات رہی ہے، بس پھر کیا تھا آشناوں کی لائن لگ گئی، لزبن کے پودوں نے مجھے
حیران کر دیا، ہر گلی محلے میں کوئی نہ کوئی جاننے والا ضرور نکل آیا، اگر میں آپ
کو بتاوں کہ کس کس سے ملاقات ہوئی تو آپ بھی حیران رہ جائیں گے،


لوکاٹ جو اس وقت پھل پر تھیں، کچھ سنگترے جو سنا
گیا ہے دراصل لزبن کے نواحی قصبے سنترہ سے ہی دنیا کو پھل دار بنانے نکلے تھے۔ انار
جو ابھی پھولوں پر تھے، پائن، کیکر کی کچھ اقسام، گولڈ مہر اور نیلم، کچنار، گل
نشتر، اور تو اور ایک  پارک میں لگے ہوئے
آم کے تین پودے بھی ملے، گھروں کے دروزوں کو سجاتی ہوئی بوگن ویلیا، غرضیکہ پودوں
کو پھولوں کے حوالے سے لزبن بہت اپنا اپنا سا لگا ، یہ تاثر ابھی تک سیکنڈے نیویا،
امریکہ کی چند ریاستوں، چائنہ کے چند شہروں، اور یورپ کے کچھ ملکوں سے کافی مختلف
لگا۔
سفیدے کے جنگلات تو پائن کے جنگلات تو مات دئیے
ہوئے تھے، زیتون اور انگور کے باغوں نے سڑکوں کے کناروں کو ترتیب دے رکھی تھی۔
عمارات اور رہاشوں کے حوالے سے لزبن میں بہت
تنوع پایا جاتا ہے، جھونپڑی سے لیکر عالی شان گھروں تک ہر قبیل کی مکان نظر آئے۔
یہ جھونپڑی محاورے والی نہیں بلکہ کامراتے کی نواح میں جھونپڑیوں سے بنا ہوا ایک
محلہ آباد ہے جو سڑک کنارے ائیرپورٹ کے پچھواڑے اپنی دنیا بسائے بیٹھے ہیں، پرانے
محلوں کی گلیاں کافی تنگ ہیں جن میں سے بمشکل ایک گاڑی کے گذرنے کا راستہ ہو گا،
لیکن جدید تعمیر میں پرانی گلیوں کی ساری کسر نکال دی گئی ہے، جدید تعمیر اور لینڈ
سکیپ میں کھلے پن کا تصور کھلم کھلا ملتا ہے۔ سڑکوں کے کنارے پودوں کی دو رویہ
قطاریں، سروس روڈز، بلڈنگز کے ساتھ گرین بیلٹ اور کچھ نخلستان سے علاقے لزبن کی
خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔ ایک دو شاہراوں پر تو کسی جنگل سے گذرنے کا گماں
ہوتا ہے۔
گھروں کی تعمیرات کا انداز باقی یورپ سے ملتا
جلتا تھا مگر پہاڑیوں پر بنے ہوئے ہونے کی بنا پر لزبن کو تہہ در تہہ محسوس کیا جا
سکتا ہے اور وہ جو دیسی زبان میں کہتے ہیں کہ لیول ہے یار بس ایسے ہی انہوں نے
پہاڑیوں کے نشیب و فراز کو ایک لیول دے رکھا تھا ، یعنی آپ ایک گروانڈ لیول سے
سیڑھیاں چڑھیں تو پھر ایک گروانڈ لیول آپ کا منتظر ہوتا ہے۔
لزبن کی خوبصورتیوں میں اس کے معتدل موسم کا بڑا
ہاتھ ہے، ابھی سیکنڈے نیویا میں درجہ حرارت دس کے قریب تھا لیکن لزبن میں پہلے دن
کا درجہ حرارت پچیس سنٹی گریڈ تھا، جس کی وجہ سے یورپی سیاحوں کی ایک بڑی تعداد
لزبن کا موسم انجوائے کرنے آئی ہوئی تھی۔ سیاحوں کے لئے لزبن میں ایک اور اٹریکشن
اس کا قدرے سستا ہونا بھی ہے، آپ کے بیگ میں جگہ پوری ہو تب بھی کچھ نہ کچھ خریدنے
کو دل کر ہی آتا ہے،ہاں البتہ الیکٹرونکس اشئیا کے ریٹ باقی یورپ کے برابر ہی ہیں۔
لزبن میں دیسی
دنیا کے باقی ممالک کی طرح یہاں بھی خود سے ملتے
جلتے چہرے نظر آتے ہیں، لیکن لزبن کے کچھ علاقوں میں بنگالی بڑی تعداد میں آباد ہیں،
ایک گلی دیکھنے کا اتفاق ہوا جسے ہمارے دوست بنگلہ سٹریٹ کہہ رہے تھے، یہاں بڑی
تعداد میں بنگالی خوش گپیوں میں مصروف تھے، چھوٹے چھوٹے ڈھابے، حلال کھانے کی
دکانیں، دیسی گروسری سٹور، حلال گوشت کی دکانیں، موبائل فونز کی متعلقات وغیرہ
وافر یہاں دستیاب تھیں، ایک بنگالی ہوٹل سے ہم نے دودھ پتی بھی پی جس کا ذائفہ
بالکل ہماری مکس چائے جیسا ہی تھا، حلال کھانے کے حوالے ترکی، عربی شوارمے کی
دکانیں بھی مناسب تعداد میں موجود تھیں، جہاں ایک یورو میں ایک چھوٹا شوارمہ کھایا
جا سکتا تھا۔ ہم نے ایک ترکش ریسٹورنٹ سے کوئلے پر بھنا ہوا مرغ کھایا جس کا ذائقہ
ہمارے دیسی ذائقے سے ملتا جلتا تھا۔ اس ہوٹل پر کچھ پاکستانی بھی کام کر رہے تھے،
اگر آپ کبھی لزبن جائیں تو اس مرغے کو خدمت کا موقع ضرور دیجئے گا۔
سیر والے مقامات
اگر آپ کبھی لزبن کی سیر کو نکلیں تو لزبن کی واکنگ سٹریٹیس، بیلم ٹاور، واسکوڈے گاما کا پل، اورینٹ ریلوے سٹیشن ، کولمبو شاپنگ مال، لزبن کے پرانے محلے الفاما، سیڑھیاں نما گلیاں دیکھنا نہ بھولئے گا
لزبن میں دوسرا دن
کہنے والے کہتے ہیں کہ لزبن کے گردو نواح دیکھے
بغیر لزبن کی سیر مکمل نہیں ہوتی، اگلے دن سنترا، کش کیش،بیلم اور شام میں کچھ لزبن کے
باقی ماندہ مقامات اور کچھ شاپنگ مال دیکھنے کا پروگرام بنا،
موسم کی پسینگوئی کچھ اچھی نہ تھی ، بارش کا
امکان تھا، لیکن ہم اپنے ارادے کے پکے نکلے اور ہمارے میزبان اسلم صاحب اور ذیشان
قریشی صاحب میں لزبن دکھانے کی خواہش میری آرزو سے کچھ زیادہ تھی، اس لئے انہوں نے
کوئی ایسا گوشہ نہ چھوڑا جس سے ان کی آشنائی اور مجھے نہ دکھایا ہو۔  سنترہ کا قصبہ بہت ہی دلکش ہے جس ہر ہمارے دوست علی حسان تفصیل سے بلاگ لکھ چکے ہیں، کش کیش کے ساحل کے ساتھ ساتھ دس بارہ کلومیٹر کی ساحلی پٹی واقع میں قابل دید ہے، کناروں سے سر پٹختی موجیں، پتھریلے اور ریتلے ساحل جن پر لہروں سے کھیلنے والے اپنے سکیٹنگ والے تختوں کے ذریعے سمندر کے سینے پر جھومتے نظر آتے ہیں، یہاں سمندر میں ایسی لہریں اٹھتی ہیں جن کی تلاش پرفیک ویوز نامی فلم میں کی گئی ہے۔ ان قدرتی نظاروں سے دل کو بہلاتے ہم بیلم کے علاقے میں چلے آئے، یہاں بیلم ٹاور ہے جو کسی زمانے میں پہلی فوجی چوکی کا سا کام کیا کرتا تھا، اس کے پاس ہی واسکوڈے گاما اور دیگر جہازبانوں کی یاد گار تعمیر کی گئی ہے۔ اس سے کچھ فاصلے پر ایک قدیمی گرجا گھر ہے جس کی شان و شوکت دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔ 
لزبن میں تیسرا دن 
لزبن سے کچھ ایک گھنٹے کی مسافت پر فاطمہ نامی شہر ہے، اس شہر کے نام میں میرے لئے چونکا دینے کا عنصر تھا، کہ شاید عیسائیوں کے ہاں بھی فاطمہ نام تقدیس کا درجہ رکھتا ہے۔ کیونکہ اس شہر کی اہمیت عیسائیوں کے لئے مذہبی تھی۔  شہر فاطمہ سیاحوں اور مذہبی ذائرین کے لئے بڑی اہمیت کا حامل ہے، سنا گیا ہے کہ اس شہر سو سال پہلے لوئس نامی خاتون اور اس کے ایک بھائی اور بہن نے مقدس مریم سے بات چیت کی۔ اس کے بعد سے اس شہر اور اس خاندان کی تمام اشئیا کو مذہبی محبت حاصل ہو گئی، لوگ اب اس شہر کے گرجا گھر کے باہر منتیں مانتیں ہیں، موم بتیاں جلاتے ہیں، اور تو اور کئی لوگ گھٹنوں کے بل سے عبادت گاہ میں داخل ہوتے ہیں۔ اس شاہر سے واپسی پر اورم کے مقام پر ایک پرانا قلعہ دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا، جس کے کھنڈرات کسی کی عظمت کا دکھ بھرا گیت لئے ہوئے تھے، کہ زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے۔ ۔۔واپسی پر پھر سے زبیر کے مرغے سے اپنی دعوت کی گئی اور گھر کو چلے آئے۔ 

اس بلاگ کو تصاویر کے ساتھ دیکھنے کے لئے ڈان کی ویب سائٹ پر دیکھئے ۔http://www.dawnnews.tv/news/1036636/30apr2016-lisbon-sahilon-yadgaron-aur-sabza-zaaron-ka-sheher-ramzan-rafique-aa-bm

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں