Opens in a new tab

مذہب کی لاٹھی؟؟؟

جون 15, 2014  ·  1 منٹ کا مطالعہ

نام نہاد اسلامی معاشرے میں مغربی طرز زندگی رکھنے والے ہم ایسے لوگ مذہب کو بغیر ضرورت کے استعمال ہی نہیں کرتے۔ ہاں جب کسی کو طعنہ دینا ہو، ذرا چھت سے اٹھا کر زمین پر پٹخنا ہو تو پہلے اس کو تھوڑا اٹھایا جاتا ہے اور پھر دھڑام سے گرایا جاتا ہے۔ مذہب طاقتور کے ہاتھ میں ایک خداوندی دلیل بن کر کھلونا بن رہا۔ بیواوں کی زمیینیں مسجدوں کے لئے حاصل کرنے کا نیک کام ہو، یاجعلی شراب سپلائی کرنے پر کسی عیسائی پر توہین مذہب کا الزام لگانا ہو، ایک دوسرے کو کافر تو کافی عرصہ پہلے قرار دیا جا چکا ہے۔ اہل مذہب میں فرقہ پرستی کی ہٹ دھرمی کی انتہا کہ کوئی کسی کی بات سننے کا روادار نہیں، لوگ کعبتہ اللہ میں جا کر ایک دوسرے کے پیچھے نماز پڑھنے سے کترانے لگیں تو ایسی غضب ناک نفرت کو کیا نام دیا جائے؟

مذہب کے لئے لڑتے مرتے لوگ مذہب کے مطابق جینا ہی نہیں چاہتے۔ یعنی روزے بھی نہیں رکھے، نماز بھی نہیں پڑھی اب عید کی سویاں بھی نہ کھاوں اتنے گئے گذرے مسلمان تو ہم نہیں۔

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←