Opens in a new tab

بڑے بھائی کے جوتے

دسمبر 26, 2016  ·  1 منٹ کا مطالعہ

بڑے بھائی کے جوتے کافی عرصہ ہو گیا ہے کہ بڑے بھائیوں سے جوتے نہیں کھائے، اب تو ان کا ذائقہ رنگ اور خوشبو بھی بھول گئی، بہت سال پہلے گھر کے اندر ابا جی اور گھر کے باہر بڑے بھائی کا جوتا چلتا تھا، میں نے ایسے چھوٹے بھائیوں کو دیکھا ہے جو اپنے بڑوں بھائیوں کے سامنے سیگریٹ تک نہیں پیتے تھے، خیرہم تو بڑے مقدر والے چھوٹے تھے، بڑے بھائیوں اور والد صاحب سے خوب خدمت کروائی، سکول جاتے ہوئے اگر کسی بڑے بھائی نے کپڑے استری کر دئیے تو پہن لئے، ورنہ بنا استری ہی سکول چلے گئے، بڑے بھائیوں سے میری محبت بہت خاموش رہی ہے، اتنی خاموش کہ اب بھی ایک دوسرے کا حال بیماری کے علاوہ پتا نہیں کرتے، آج دکان پر بڑے بھائی کے جوتوں جیسے جوتے دیکھے تو فورا پسند آ گئے، ان میں کچھ ایسی خاص بات نہیں بس یہ کہ ان سے ملتے جلتے جوتے میرے بڑے بھائی کے پاس بھی ہیں۔ ہم ایسے چھوٹوں کو بڑے بھائیوں کے جوتوں کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، اس لئے ان کی غیر موجودگی میں محبت کی نشانی کے طور پر یہ جوتے لے آیا ہوں۔۔۔۔خداوند کریم مجھے اپنے بھائیوں کی محبت سے یونہی مال مال رکھے،

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←