کتاب کی چوری۔ بھی چوری ہے میرے بچو

0
675

آج صبح بھی کسی انجانے شخص کا پیغام ملا کہ ان کو میری کتاب کی پی ڈی ایف کاپی کی اشد ضرورت ہے، اس سے پہلے کچھ دن پہلے کسی دوست کے بھائی کا فیس بک پیغام ملا کہ وہ چائنا میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں، ان کو میری کتاب کی پی ڈی ایف کی ضرورت ہے، درجنوں دفعہ ملتے جلتے متن کی ای میلز، فیس بک پیغامات وصول ہوتے ہیں، لوگ دھڑلے سے مجھ سے میری کتاب کی سوفٹ کاپی لینے کی خواہش کا اظہار کرتے ہیں، یہ کتاب زراعت کی بنیادی معلومات کو اکٹھا کر کے ترتیب دی گئی ہے، جس میں زراعت کے مختلف شعبوں میں استعمال ہونے والی اصطلاحات، اور معلومات کو سوال و جواب کی صورت اکٹھا کیا گیا ہے، پہلے ایڈیشن میں یہ کتاب چار سو چھپن صفحات پر مشتمل تھی جو اب سات سو سے زائد صفحات اور ساتویں ایڈیشن تک جا پہنچی ہے۔  سبجیکٹ بیس جی آر ای، ماسٹر، پی ایچ ڈی ڈگری میں داخلے کے امتحانات، جاب انٹرویوز، یا سی ایس ایس ، پی سی ایس میں کوئیز والے حصے کی تیاری کے لئے لوگ اس کتاب کو پسند کرتے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق کتاب کے ایک ایڈیشن سے ایک لاکھ سے دو لاکھ روپیہ آمدن ہونے کی امید ہوتی ہے، پہلا ایڈیش  دوہزار تین میں چھپا تھا، اور چودہ سالہ میں سات ایڈیشن کا مطلب ہے کہ اوسط دو سال میں ایک ہزار کتاب بکتی ہے، اگر ہم منافع ایک لاکھ سے دو لاکھ کے درمیان لگا لیں تو ماہانہ منافع چار ہزار سے لیکر آٹھ ہزار تک ہو سکتا ہے، ڈیڑھ لاکھ روپیہ انوسٹ کرنے کے بعد ماہانہ پانچ ہزار منافع کا کاروبار ، کتنا بڑا کاروبار ہو گا، اس کے پائی چارٹ بنانے کی ضرورت نہیں۔

ان سب باتوں کا مقصد لوگوں کو سمجھانا ہے کہ کتاب چھاپنے سے مصنف کو کوئی خاطر خواہ منافع ہونے کی امید کم از کم پاکستان میں نظر نہیں آتی، چہ جائیکہ کہ آپ چالیس پچاس کتابوں کا ایک سرکل چلا رہے ہوں تو شاید ایک درمیانے درجے کے گھر کا خرچ چلایا جا سکے۔

اتنی قلیل آمدنی کے ساتھ ہمیں کچھ تحریک ملتی ہے کہ کتاب کو کسی نہ کسی حد تک اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے، وگرنہ اگر یہ کتاب پی ڈی ایف فائل کی نظر کر دی جاتی تو کبھی اپ ڈیٹ نہ ہو پاتی۔ اس لئے یہ طے ہے کہ ہم کتاب بیچنے کی کوشش کرتے رہیں گے تا کہ اس کو اپ ڈیٹ کیا جاتا رہے۔ لیکن بہت سے دوست اس بات کو سمجھنے سے انکاری ہیں، ان کا رویہ اتنا ظالمانہ ہے نئی کتاب کا خیال بھی آئے تو کسی اور خیال پر سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔

پاکستان میں کتاب ، مسودے، اور تحریر کی چوری کو کوئی چوری نہیں سمجھتا۔ اس میں سب سے بڑا کردار ہمارے پرنٹ میڈیا کا ہے جو لکھنے والوں کو پیسے دینے کا عادی ہی نہیں۔ تحریر چوری کا ایک بازار گرم ہے، چند بڑے بڑے ناموں کی جیبوں کو گرم کر کے ان کے منہ بند کر دئیے جاتے ہیں، اور وہ بھی سیٹھوں کی اس چوری کے دھندے میں مددگار بن جاتے ہیں، قومی اخبار دھڑلے سے لوگوں کے لکھے مضامین اپنے صفحات پر سجاتے ہیں اور کئی بار تو لکھنے والوں کے نام بھی کاٹ دیتے ہیں۔

اس میں کسی حد تک قصور ملک کے شعرا کرام کا بھی ہے، جنہوں نے اپنا دیوان چھاپنے کی خواہش میں کتاب کو مفت کی جنس بنا دیا، اکثریت اپنا پیٹ اور جیب کاٹ کر کتاب چھپواتی ہے، اور بعد میں تقریبا مفت بانٹ دیتی ہے، جس کی کتاب کی لاگت پوری ہو جائے اس کی شاعری کامیاب تصور کر لی جاتی ہے، اس روش کی وجہ سے عوام سمجھنے لگ پڑتے ہیں کہ کتابیں بس مفت میں ملنے کی چیز ہیں، اور بعد میں ایسے دوست اپنے کلام کی عوام میں پذیرائی کے لئے کتاب کے مسودے سوفٹ کاپی کی صورت لوگوں کو بانٹتے نظر آتے ہیں، ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر پرنٹ شدہ کتاب ختم ہو چکی ہے تو خریدار سے کہیں کہ آپ اگلے ایڈیشن کے لئے پیسے جمع کروادیں جونہی ایڈیشن چھپا آپ کو دستخط شدہ کتاب آپ کے گھر بھیج دی جائے گی۔

اس میں قصور ان ظالم دانشوروں کا بھی ہے جو لکھنے والوں سے مفت کتاب کی خواہش رکھتے ہیں، یعنی آپ کسی بھی سرکاری عہدے پر بیٹھے ہیں، مفت کتاب آپ کا پہلا حق ہے، سب سے زیادہ کسی کتاب کی ناقدری ایسے لوگ ہی کرتے ہیں جن کو کتاب مفت میں ملتی ہے۔

سب سے بڑا قصور پڑھنے والوں کا ہے جو کتاب کی چوری کو چوری نہیں سمجھتے، میں پچھلے دنوں ایک انتہائی پڑھے لکھے دوست سے کتاب کی پی ڈی ایف بن کر چوری ہو جانے کی واردات کا ذکر کر رہا تھا کہ انہوں نے کہا، اب تو آپ کو کوئی مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ آپ کی کتاب کے پیسے تو پورے ہو چکے اور کتاب اب ساتویں ایڈیشن تک آ گئی، یعنی ان کے خیال میں یہ میرے لئے خوشی کی بات ہونی چاہیئے کہ میری کتاب اس حد تک مشہور ہو چکی، پچھلے دنوں جامعہ پنجاب کے ایگری کیمس میں جانے کا اتفاق ہوا، اپنے پرانے کلاس فیلو جو اب اسسٹنٹ پروفیسر ہیں ان کے پاس کھڑا تھا تو چند طالب علم آئے ، انہوں نے فخریہ کہا یہ ہمارے دوست نے جنہوں نے بیسکس آف ایگری کلچر ترتیب دی تھی، ایک طالب علم نے جھٹ سے کتاب کی فوٹو کاپی لہرائی، اچھا سر یہ آپ کی کتاب ہے، میں آجکل پڑھ رہا ہوں، ایسے ہی ایک مادر علمی جانے کا اتفاق ہوا، وہاں ایک فوٹو سٹیٹ پر لکھا ہوا تھا بیسکس آف ایگری کلچر کی فوٹو کاپی دستیاب ہے، میں نے قیمت دریافت کی، یہ پرنٹڈ کتاب  کے تقریبا برابر تھی، لیکن طالب علموں جو چیز با آسانی دستیاب ہو جائے اور جس میں کوئی امر  مانع بھی نہ ہو کہ یہ ایک قسم کی چوری ہی ہے، ویسے اس موضوع پر اس سے بھی مزیدار کمنٹس موجود ہیں، میں نے کتاب کی سوفٹ کاپی مانگے جانے کا گلہ فیس بک پر لکھا تو ایک طالب علم نے کہا کہ آپ کے ساتھ اچھا ہوا، آپ بھی طالب علموں کو لوٹ رہے تھے، میں نے کہا بھائی اس کی وضاحت کرو تو کہنے لگے کہ آپ کتاب بھی تو اتنی مہنگی بیچ رہے تھے، اچھا ہوا کہ کسی نے پی ڈی ایف بنالی۔

لیجئے آج زراعت میں نوکری حاصل کرنے کی مدد کرنے والے دوست جنید حفیظ نے ایک فیس بک پوسٹ پر میری اس کتاب کو ریکمنڈ کیا تو کم و بیش ایک سو لوگوں نے ای میل اور فون نمبر لکھ چھوڑے ہیں کہ یہ کتاب ان کو پی ڈی ایف کی صورت بھیج دی جائے، میں نے جنید حفیظ کو فون کیا کہ کیا ان کے پاس کتاب کی سوفٹ کاپی ہے، انہوں کہا جی ہاں اور انہوں نے کسی وٹس ایپ گروپ سے حاصل کی ہے، میں نے کہا کہ مجھے کاپی بھیجیں، کتاب کی پی ڈی ایف شدہ کاپی میرے سامنے ہے اور اس کے آخری صفحے پر اس عظیم شخص کی تصویر بھی ہے جس نے اتنی محنت سے اس کتاب کی سوفٹ کاپی تیار کی ہے۔

اور وہ لوگوں سے امید لگائے بیٹھا ہو گا کہ لوگ اس کی اس چوری پر اس کو شاباش دیں گے، اور داد و تحسین سے نوازیں گے، کیونکہ ہمارے کلچر میں یہ چوری بھی کیا چوری ہے، جہاں ملک سے بڑے بڑے دانشور چھوٹے لکھاریوں کی تحاریر دھڑے سے چوری کے کے اپنے نام سے چھاپ لیتے ہوں وہاں یہ بچے تو طفل مکتب ہیں۔ پچھلے دو ہفتوں میں بیلی پور میڈیا جو حسن نثار صاحب سے تعلق رکھتا ہے ان کی ویب نے میری ڈان بلاگ کی تحریر چوری کی اور میرا نام تک کاٹ دیا اور یہ تحریر حسن نثار آفیشل پر شئیر بھی کی گئی، اس کے بعد ڈیلی قدرت نے میرا ٹالن والا بلاگ چوری کرکے میرا نام تک کاٹ دیا،

ایسے میں آنے والی نسلوں کوکون سمجھائے کہ میرے بچو یہ بھی چوری ہے چوری۔۔۔۔

For Home delivery of Basics of Agriculture book contact 03006606265 chaudhary jabbar.

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں