اوسلو ناروے کا سفر نامہ

0
159

اوسلو یورپ کا پہلا شہر تھا جہاں سے میرے یورپ کے سفر کا آغاز ہوا، لیکن منیر نیازی کی نظم کی طرح

یہی اصل حقیقت ہے کہ میری بے رخی چاہت ہوئی مثل قفس مجھ کو،

مجھے تم سے محبت ہے

بس اتنی بات کہنے میں

لگے بارہ برس مجھ کو

بالکل ایسے ہی محبت کا یہ اظہار بھی سات سال لے گیا، ان سات سالوں میں درجنوں بار اوسلو کو دیکھنے کا موقع ملا، میرے بڑے بھائی اوسلو کے نواح میں میڈیکل ڈاکٹر ہیں، اس لئے میرے یہاں آنے کے لئے کسی خاص بہانے کی ضرورت نہیں، ان کو ناروے میں آئے چودہ پندرہ برس بیت گئے، اس لئے ان کے جاننے والوں کی ایک بڑی تعداد بھی میرے سفر کے مہربانوں میں شامل ہے۔ اوسلو کا شمار دنیا کے مہنگے ترین ملکوں میں ہوتا ہے، جتنے روپوں میں آپ پراگ کی سیر کا چار دنوں کی سفری پاس حاصل کرتے ہیں اتنے پیسوں میں یہاں ائیرپورٹ سے سنٹرل سٹیشن طے کرنے کی یکطرفہ ٹکٹ آتی ہے۔ اگر ائیرپورٹ سے ٹیکسی پر اوسلو شہر کے سنٹر تک آیا جائے تو پاکستان میں ایک مزدور ہی کم از کم تنخواہ سے کچھ زیادہ خرچ آتا ہے۔ یعنی بارہ پندرہ ہزار روپے۔ لیکن بھلا ہو بڑے بھائی اور ان کے مہربان دوستوں کا جنہوں نے اس مہنگے ملک کو میرے لئے سستی ترین منزل بنائے رکھا۔ اور چھوٹا ہونے کے ناطے کچھ تحفے تحائف بھی واپسی پر سفر کا لطف دوبالا کئے رکھتے ہیں۔ اس لئے جب کبھی آپ اوسلو کی طرف رخت سفر باندھیں تو زاد راہ کو کھلے دل کے ساتھ باندھیں۔ اوسلو میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد آباد ہے، حتی کہ گروندلینڈ والے حصے میں آکر پاکستان کے کسی حصے کا گماں ہوتا ہے۔ دیسی دکانوں پر اردو میں تحریر عبارتیں، حلال گوشت کی دکانیں، پاکستانی فیشن کی دکانیں، دیسی ریسٹورنٹ، دیسی مٹھائی کی دکانیں، لاہوری ناشتہ، دیسی مصالحہ جات اور گروسری کے بازار غرضیکہ اپنے دیس کی گلیوں کا گماں ہوتا ہے۔

مجھے اوسلو کی جامع مسجد میں جمعہ پڑھنے کا اتفاق بھی ہوا ہے، جہاں بڑی تعداد میں پاکستانی اور اردو میں جمعہ کا خطبہ سن کر لگتا ہی نہیں آپ پردیس میں بیٹھے ہیں۔ پچھلے برسوں میں چاند رات پر ایک مینا بازار جانے کا بھی اتفاق ہوا،جہاں عید سے رات سے پہلے کسی بھی پاکستانی بازار کا سا رش تھا۔ شہر میں اگر ساحتی نقطہ نظر سے اوسلو کو دیکھا جائے تو جن جگہوں کو بار ہا دیکھنے کا اتفاق ہوا ان میں اوسلو کا اوپرا ہاوس ایک ہے۔

اوسلو اوپرا ہاوس

سفید سنگ مرمر سے بنی یہ خوبصورت عمارت ایک مشہور پاکستانی آرکٹیکٹ کے کہنے کے بقول زمین سے اگی ہوئی معلوم ہوتی ہے نا کہ اٹھا کر وہاں رکھی ہوئی۔ اس سفید عمارت کو ایک سفید آئس برگ کی طرح سے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ جو سمندر کے کنارے واقع ہونے کی بنا پر سمندر کا ایک حصہ معلوم ہوتی ہے۔ اورخصوصا اس کو موسم سرما میں دیکھنے پر آئس برگ کی کیفیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ اس عمارت کی ایک اور خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں عمارت کی چھت تک جانے کے کئے کوئی سیڑھی نہیں بنائی گئی، بلکہ عمارت کے خط و خال کچھ اسطرح تراشے گئے ہیں کہ آپ بنا سیڑھی چھت تک چلے جائیں۔ اوپرا ہاوس کے سامنے سمندر کے کنارے اکثر اوقات مختلف قسم کے کنسرٹ ہوتے رہتے ہیں۔ اوپرا ہاوس کے اندر تعمیر کی خوبصورتی بھی قابل دید اور قابل داد ہے۔ اس عمارت کا ڈیزائن، اور تعمیر دیکھنے والوں کے لئے ایک ایسی دعوت نظارہ رکھتی ہے۔ جس کے بغیر اوسلو کا سفر ادھورا ہے۔

اےکے برگ کی پہاڑی

اوپرا ہاوس، اور اس کے ملحقہ علاقہ کا نام ایکےبرگ ہے۔ یہاں ایک قلعہ بھی موجود ہے، لیکن لیکن قلعہ کی طرف جانے سے پہلے اگر گاڑی میسر ہو تو کچھ دور نظر آتی پہاڑی پر جا کر شہر کا نظارہ کرنے کی کیا ہی بات ہے۔ بل کھاتی ایک سڑک اس پہاڑی پر لئے جاتی ہے۔ جس کی چوٹی پر ایک پوش ریسٹورنٹ بھی ہے۔ اس کے سامنے جنگلہ لگا کر لوگوں کو شہر دیکھنے کی جگہ بنائی گئی ہے۔ یہاں سے شہر کی اونچی عمارتوں اور وادی میں موجود گھروں کا مشاہدہ کیا جا سکتا ہے۔ پچھلے سات سالوں میں اوسلو میں کافی بدلاو آیا ہے۔ اوسلو میں کافی اونچی عمارتوں کا اضافہ ہوا ہے۔ اب بہت سی عمارتیں ایکےبرگ کی اس پہاڑی سے باتیں کرتی دکھائی دیتی ہیں جو کبھی ان چھوٹی موٹی عمارتوں کا منہ نہ لگاتی تھی۔ اس پہاڑی سے شہر سے ہٹ کر سمندر کا حصہ بھی دور تک دکھائی دیتا ہے۔ اگر کبھی شام ڈھلے اس پہاڑی پر آئیں مطلع صاف ہو جو کبھی نصیبوں سے ہی ہو سکتا ہے تو ثنا اللہ ظہیر کے اس شعر کی تصویر بن جاتی ہے۔

کنار شام سے بازووئے شب میں آتے ہوئے

یہ کس خیال سے چہرہ ہے لال سورج کا

اے کے برگ کا قلعہ اور ملحقہ علاقہ

ایکےبرگ کے قلعہ کو دیکھنے کو ایک دن درکار ہے، اس کے درودیوار کو بارہا دیکھا لیکن اندر جانے کی کبھی کوشش ہی نہیں کی۔ پتھر کی دیواروں سے تعمیر یہ قلعہ 1290 کے قریب تعمیر کیا گیا، اس نے بہت سی یورشوں کا سامنا کیا لیکن اب بھی اسی شان و شوکت سے ایستادہ ہے۔

اوپرا ہاوس سے قلعہ کی طرف چلیں تو یہ سارا ساحلی علاقہ خوبصورت ریستورنٹس سے بھرا ہوا ہے۔ موسم گرما میں یہاں لوگوں کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کو ملتی ہے، لیکن اب کی بار دسمبر میں گیا ہوں تو سوائے چند سیاحوں کے بہت کم مقامی افراد دیکھنے کو ملے۔ اسی ساحلی پٹی کے ساتھ ایک لوہے کی تختی نصب ہے جس پر اوسلو کے ہزار سال مکمل ہونے کا جشن منانے کی عبارت تحریر ہے۔ اس تختی پر یہ بات بھی رقم ہے کہ اوسلو کے شہریوں نے ہزار سال بعد آنے والی نسل کے لئے ایک پیغام لکھ کر ٹاون ہال میں ایک جگہ پر رکھا ہے۔ اس پیغام میں آنے والی نسلوں کے لئے محبت کا پیغام ہے۔ اس پیغام کو ایک دھاتی خول میں رکھا گیا ہے، جس پر موسموں کا اثر بہت کم ہو سکتا ہے۔

ٹاون ہال

یورپ کے اکثر شہروں میں ٹاون ہال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہیں سامنے ہی ٹاون ہال کی عمارت کی ایک سائیڈ نظر آتی ہے۔ اوسلو ٹاون ہال کی عمارت 1950 میں مکمل ہوئی، اس کی وجہ شہرت دس دسمبر کو امن کے نوبل انعام کی تقریبات کے منعقد کروانے کے سلسلے میں ہوئی، جس کے مہمان دنیا بھر سے منتخب افراد اور ناروے کے شاہی خاندان کے افراد ہوتے ہیں۔ اس عمارت پر لوہے کے بڑے بڑے مجسمے نصب کئے گئے ہیں جو ناروے کی ماضی قریب کی تاریخ کے آئینہ دار ہیں۔ ٹاون ہال کی عمارت کو دوسری سمت سے دیکھیں تو دو عمودی رخ بنے ہوئے حصے بہت نمایاں نظر آتے ہیں، جن کو ان کی کشادگی کی بنا پر مینار نہیں کہا جا سکتا۔

نوبل پیس سنٹر

ٹاون ہال کے بالکل سامنے ایکے برگ کے شاپنگ ایریا کی طرف پرانے ریلوے سٹیشن کی عمارت کو ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جس کو نوبل پیس سنٹر سے موسوم کیا گیا ہے۔ اس میوزیم میں نوبل انعام کی تاریخ، اور اس کو حاصل کرنے والوں کے متعلق ریکارڈ کو مرتب کیا گیا ہے۔ لوگوں کو انٹرایکٹو ٹیکنالوجی کی مدد سے نوبل انعام کی کہانی سے آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہاں پر امن، جنگ اور معاشرت کے حوالے سے سمینازر وغیرہ کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں نوبل انعام کے بانی الفریڈ نوبل کی زندگی کے مختلف پہلووں کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔  ۔ یہ عمارت ٹورزم کے پراڈکٹ ڈویلپمنٹ کی ایک عمدہ مثال ہے، جہاں ملک کے ایک نوبل انعام کے تاثر کو تصویر کرکے سیاحوں کے لئے ایک نخلستان تخلیق کیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کی عمارت

ٹاون ہال سے کچھ ہی فاصلے پر نارویجئین پارلیمنٹ کی عمارت ہے۔ اس عمارت کا افتتاح 5 مارچ 1866 کو ہوا، پارلیمنٹ کی عمارت واکنگ سٹریٹ کے کونے پر واقع ہے، جہاں سے تقریبا ہر سیاح کا گذر ہوتا ہے، دور دور تک کسی جنگلے کا نشان نظر نہیں آتا، ابھی تازہ ترین تصویر دسمبر کے اوائل میں لی گئی ہے ، اس لئے ایک عارضی کرسمس ٹری تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے، ہو سکتا ہے جب آپ دیکھنے جائیں تو آپ کو مرکزی کرسمس ٹری دیکھنے کو نہ ملے۔ یہ عام سی عمارت پاکستان کے پوش بنگلوں سے کہیں کم تر دکھائی دیتی ہے، مگر اس عمارت کے اندر ہونے والے فیصلے ملک میں عام اور خاص کے فرق کو کم سے کم کرکے اپنی طاقت کا لوہا منواتے ہیں۔

بادشاہ کا محل۔

پارلیمنٹ ہاوس والی سڑک کے ایک طرف چڑھائی ہے اور دوسری جانب اترائی، چڑھائی کی طرف دیکھیں تو ایک جاذب نظر عمارت پر نظر پڑتی ہے، یہ ناروے کے شاہی خاندان کا مسکن ہے۔ یہ عمارت بھی دیکھنے میں سادہ سی معلوم ہوتی ہے، ہم جنہیں برجیاں، مینارے دیکھے بغیر بادشاہت کا گماں نہیں گذرتا، ان سادہ دلوں کا کا گذارہ شاید اس بات سے ہو سکے کہ اس محل میں ایک سو تہتر کمرے ہیں۔ یہ عمارت 1849 میں مکمل ہوئی، اس کی تعمیر کا یہ واقعہ ہم ایسی قوموں کے لئے مشعل راہ ہو سکتا ہے، بوقت تعمیرپارلیمنٹ سے منظور شدہ اخراجات سے تجاوز کی بنا پر اس کی تعمیر کچھ وقت کے لئے موخر بھی رہی۔

فرونر پارک

اوسلو کا سب سے زیادہ دیکھے جانے والے عوامی مقام میں اعلی درجے کا حامل یہ پارک ہے، اس خوبصورت پارک کی شان پتھر سے تراشے ہوئے بے شمار مجسمے اور ان کا انداز پیشکش ہے۔ اس پارک کے سب شاہکار عریاں ہیں، اس لئے پردے دار خواتین و حضرات کو تاکید کی جاتی ہے کہ اپنی نظروں کی حفاظت کا خوب بندوبست کر رکھیں۔  لیکن اگر آپ کی فنون لطیفہ سے ذرا سی بھی دل چسپی ہے تو یہ پارک دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ فن سنگ تراشی سے نابلد بھی انسانی ہاتھ سے تراشی ہوئی مسکراہٹوں، آرزوں، کی مجسم اشکال کو دیکھ کر دنگ رہ جاتا ہے۔ اس پارک کے ایک دو مجسموں کو دنیا دور دور سے دیکھنے آتی ہے۔ خصوصا چینی سیاحوں کا تو ہجوم سا چھایا رہتا ہے۔ ان مجسموں کا خالق گسٹو وجالند کی یہ کاوش اوسلو مونسپلٹی اور فنکار کے درمیان ایک معاہدے کا نتیجہ ہے، ہمارے ہاں بھی فنکار حکومتوں کی آشیر باد کے منتظر ہیں ورنہ کتنی آسانی سےایسے کئی تاج محل، اور مجسمے تراشے جا سکتے ہیں۔

بگ ڈوئی کا ساحل

ہم وائکنگ میوزیم کے راستے میں تھے کہ میرے میزبان  نے بگ ڈوئی کے ساحل کی تعریف کی، دسمبر کے موسم میں ساحل سمندر پر جانا ایک خنک تجربہ ہے، لیکن خوبصورتی ہر رنگ میں خوبصورت لگتی ہے، سچ پوچھئیے کہ اس ساحل پر نہ جاتا تو افسوس کرتا کہ کیونکر نہ گیا، ساحلوں کی خوبصورتی کو سمجھنے کے لئے سمندر کی گہرائی چاہے، کچھ لوگوں کو صرف سرما کے ساحل اور اس پر لوگ اچھے لگتے ہیں اور میرے لئے ساحل سارے سال کا تجربہ ہے، ساحلوں پر کچھ ایسا ہے جو دل کے تاروں پر اوپرا کا سا اثر کرتا ہے جس کے بول سمجھ نہیں آتے، جس کی زبان اجنبی ہے مگر کچھ ہونے کا احساس دلاتی ہے۔۔۔۔۔اگر آپ اوسلو شہر کی سیر کے دوران شہر کے اس حصہ کی طرف نکلیں جہاں فرم میوزیم یا دیگر میوزیم ہیں تو اس ساحل پر میرا سلام کہنا مت بھولئے گا۔

فرم میوزیم

ناروے کے بادشاہ کی موسم گرما کی رہائش گاہ کے ذرا پاس جہاں اور بھی دیگر میوزیم ہیں، جیسے کلچرل ہسٹری اور وائکنگ شپ میوزیم ان کے پاس ہی فرم میوزیم ہے، اس میوزیم میں فرم نامی جہاز جو 1893 سے 1912 تک آرکٹک اور انٹارکٹک کے علاقوں کی دریافت میں استعمال ہوا، رکھا گیا ہے۔ اس میوزیم میں قطبی علاقوں میں زندگی کے مختلف رخ بھی تصویر کئے گئے ہیں۔

سنٹرل سٹیشن اور ٹائیگر سے ملاقات

اوسلو سنٹرل سٹیش کے سامنے ایک ٹائیگر کا مجسمہ نصب کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں شہر ٹائیگر اوسلو کا نک نیم ہے، 1870 کے قریب ایک نارویجئین شاعر نے اوسلو کو ایک ٹائیگر سے تشبیہ دی ، اس لئے شہر کی اس مرکزی جگہ پر ٹائیگر اوسلو شہر کے اس خفی نام کی طرف ایک اشارہ ہے۔

ناروے کی خوبصورتی اس کے خوبصورت نظام ہیں، شخصی آزادی، مساوات، سماجی نظام، قانون کی بالادستی اس کی شان ہیں، اسی لئے اس کا شمار دنیا کے محفوظ ترین ممالک میں ہوتا ہے، جیسے زندگی میں ہر اچھی چیز کی قیمت ہوتی ہے، ایسے ہی ناروے کے لوگ ریاست کو بہت زیادہ ٹیکس ادا کرتے ہیں، اوسلو شہر میں بہت سی جگہ گاڑی پر داخل ہوں تو ٹول ادا کرنا پڑتا ہے، جو ایک دفعہ کے لئے تین سو روپے سے کم نہیں، اصل میں حکومت شہر کے اندر گاڑیوں کے داخلے کو کم سے کم کرنے پر مائل ہے۔ اور عوامی ذرائع آمدورفت کو بڑھانے کی خواہشمند ہے۔ اوسلو میں جتنی بھی خوبصورتیاں تلاش کر لوں لیکن ایک خوبصورتی سب پر بھاری ہے کہ محبت کرنے والے بھائی اور ان کے دوست جنہوں نے میرے ہر سفر کو آسان بنایا۔ شکریہ اوسلو اور شکریہ مہربان دوستو۔۔۔۔پھر ملیں گے۔

نوٹ یہ بلاگ ڈان اردو میں چھپ چکا ہے، معہ تصاویر دیکھنے کے لئے ڈان کے لنک پر کلک کریں۔ http://www.dawnnews.tv/news/1048792/17dec2016-oslo-norway-ke-husn-o-nafasat-ka-akkaas-ramzan-rafique-aa-bm

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں