مقامات مقدسہ پر سیاسی پارٹیوں کے نعرے اور نام، مسلمانو شرم کرو

0
1029

چند روز سے سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر گردش میں ہیں کہ پی ٹی آئی کے چند سپورٹرز نے غار ثور کے آس پاس گونواز گو ، اور پی ٹی آئی طرز کے نعرے لکھ دئیے ہیں، جس پر ن لیگ کے حامی مذہبی جذبات کی آڑ لیکر خوب محفلیں گرم کئے ہوئے ہیں۔ مجھے پچھلے سال عمرہ کی غرض سے سفر حجاز کا موقع نصیب ہوا، آپ کسی زیارت کا نام لے لیں، ہمارے دیسی طرز کے نام جا بجا لکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، اگر ترتیب سے ان ناموں کا تذکرہ کیا جائے تو مسجد نبویﷺ کے قریب شروع ہونے والی زیارات سے لیکر میدان بدر تک جہاں جہاں لوگ پہنچتے ہیں، زخم چھوڑ آتے ہیں، جن کو دیکھ کر کسی بھی درد دل رکھنے والے کا دل دکھتا ہے۔

اس نام لکھنے کے پیچھے کیا کہانی ہے، ہم نے کئی دوستوں سے اس بارے میں پوچھا ہے، ایک دو احباب نے بتایا کہ کچھ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ جس جگہ وہ نام لکھ آئیں وہ پھر واپس وہیں بلائے جاتے ہیں، اس لئے  وہ مختلف جگہوں پر اپنے اور عزیز و اقارب کے نام لکھ آتے ہیں، مجھےخود ایک عزیز دوست نے کہا حضرت امیر حمزہ کی قبر مبارک کے باہر لگے جنگلے پر اگر انگلی کی مدد دے اپنا نام تحریر کروں گا تو واپس بلایا جاوں گا۔  ہو سکتا ہے انگلی کی مدد سے لکھنے والی بات ایک اشارہ ہی ہے کہ آپ ہرگز انگلی پر کوئی سیاہی نہ لگائیں اور ہوا میں انگلی لہرا کر کچھ لکھنے کا اشارہ کریں، اب اس بات میں کتنی صداقت ہے خدا ہی بہتر جانتا ہے۔

لیکن جیسے آپ نے سن رکھا ہو گا ہمارے سادہ لوح لوگ شیطان کو کنکریاں مارتے ہوئے بڑے بڑے پتھر تک مارنے پر اتر آتے ہیں، شاید ایسے ہی اشارے سے کرنے والی بات سے لوگ پنسل، پین، مارکر، اور پینٹ سے نام لکھنے پر اتر آئے ہیں۔ اب لئی جگہ پر یہ صورت حال اتنی گھمنبیر ہو چکی ہے کہ انتظامیہ سے زیادہ ہم لوگوں کو آگاہی دیں کہ ایسا کرنا بد تہذیبی کے زمرے میں آتا ہے۔

سنا یہ گیا ہے ہمارے کچھ زائرین دربار نبوی ﷺ سے منسلک پردوں، خانہ کعبہ پر موجود غلاف سے بھی دھاگے کھنچنے سے باز نہیں آتے۔ ایسے ظالم زائرین سے کیا بعید ہے کہ وہ حرمین اور زیارات کی دیواروں پر نام نہ لکھتے ہوں گے۔ ہمارے عجیب و غریب اعتقادات کی ایک لمبی لسٹ ہے ۔

کچھ نام لکھنے والے بغیر کسی اعتقاد کے بس نام و نمود اور دکھاوے کے لئے وہاں نشان چھوڑ آتے ہیں، مدینہ شریف میں ہمارے میزبان اور دوست رحمت علی بھائی نے وادی جن میں ایک پاکستانی پرچم ایک ایسی چوٹی پر بنا ہوا دکھایا جس جگہ پر چڑھنا ناممکن دکھائی دیتا ہے، وہ کہہ رہے تھے کچھ سال پہلے کسی اور کمیونٹنی نے اپنا جھندا پاکستان کے جھنڈے سے کچھ اونچا بنا دیا تھا، اس لئے کسی محب وطن پاکستانی نے وہاں پاکستان کا جھنڈا ایسی انہونی جگہ پر بنا کر وطن سے محبت کا حق ادا کیا۔ ایسے میں پارٹی کے نام لکھنے والوں کو بھی ملک سے باہر اپنی پارٹی سے محبت کی ایک راہ نظر آتی ہے اور وہ اپنی بساط کے مطابق اپنی پارٹی کا نام لکھ دیتے ہوں گے۔

ان نام لکھنے والوں سے ہٹ کر ایک طبقہ اپنی مصنوعات کی برینڈنگ کرنے والوں کا بھی ہے، جن کو لگتا ہے یہاں پتھروں پر نام لکھنے سے آتے جاتے حاجیوں کی نظر ان کے اشتہار پر پڑے گی اور وہ واپس پاکستان جا کر ڈھونڈیں گے کہ وہ فلاں لکی موٹر ورکشاپ کا نام انہوں نے مکہ شریف کی ایک پہاڑی پر لکھا پڑھا تھا اور وہ اپنی گاڑی کا تسلی بخش کام صرف انہی سے کروائیں گے۔

اگر یہ سلسلہ پی ٹی آئی کے سپورٹر پر ملامت سے آگے بڑھا ہے تو خدا کے لئے میری درخواست ہے ، باز آ جائیے اس طرح نام لکھنے سے۔۔۔۔۔

غالبا جبل رحمت کے پاس پڑا ایک پتھر
جبل رحمت
غار ثور کے راستے میں ایک پتھر
غار ثور کی اندرونی دیواریں
غار حرا کے آس پاس
بئیر روحا کے پاس
بئیر غرس کے پاس
مسجد ابوبکر صدیق، مسجد نبوی ﷺ کے پہلو میں
پاکستان کا جھنڈا، وہ اوپر، رحمت بھائی اور رمضان رفیق
مسجد عمر فاروق، غزوہ خندق کے علاقہ کے پاس

 

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں