Opens in a new tab

بی زیڈ یو کی بس سروس

مارچ 10, 2015  ·  1 منٹ کا مطالعہ

آج بہاوالدین زکریا یونیورسٹی کی بس شٹل نے یونیورسٹی کے اندر ایک طالبہ کو کچل کر رکھ دیا، چھ ماہ پہلے جب پاکستان آیا تھا تو اسی جامعہ کی باکمال سروس نے موڑ موڑتے ایک سوار طالبہ کو سڑک پر گرا دیا تھا، اسی سال کے اندر جامعہ کی چاردیواری میں دو سائیکل چلاتے بچے بھی اسی بس سروس کی زد میں آ کر ہلاک ہونے کی خبر بھی سنائی دی ہے، آج جامعہ میں ہڑتال ہوئی، کلاسز نہ ہوئیں، امتحان منسوخ ہوئے، پھر یہی قاتل بسیں یونہی دندناتی رہیں گی، اور کوئی جامعہ کے اندر ان بسوں کو لگام نہیں دے پائے گا، کیا کوئی پاکستانی سپیڈ لمٹ کے مطلب کو سمجھنے کی جسارت کرے گا، کیا سڑک پر آنے کے لئے جو دانشمندی درکار ہے کوئی سکول اس کو اپنے سلیبس کا حصہ بنائے گا؟

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←