Opens in a new tab

ریس 2016 ہالی وڈ فلم پر کچھ تبصرہ

مئی 30, 2016  ·  1 منٹ کا مطالعہ

انیس سو پینتیس کی دنیا کی تصویر بناتی یہ فلم اس زمانے کے بڑے مسئلے کالے اور گورے کے فرق کو ساتھ ساتھ لیکر چلتی ہے۔
جسی اوینز جس نے انیس سو چھتیس کے اولمپکس میں چار میڈل جیتے اس کی یونیورسٹی زمانے سے لیکر اولمپئین بننے کی سچی داستان ہے۔
فلم کی کہانی موٹی ویشنل ہے اور مکالمے بہت خوبصورت اور جاندار ہیں۔ ۔۔۔۔ایک سین کی کہانی ہماری زبانی ملاحظہ ہو۔
بلیک کمیونٹی کے کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ جسی اوینز برلن جرمنی میں ہونے والے اولمپکس میں احتجاجا نہ جائے۔۔۔۔اس کا کوچ خواہشمند ہے کہ وہ ضرور جائے ایسے میں وہ اپنی بیوی سے مکالمہ کرتا ہے۔

تم مجھے مشورہ دو میں کیا کروں
تم بہتر جانتے ہو تمہیں کیا کرنا ہے۔
میں جب تم سے کہتا ہوں کہ مجھے بتاو تو بتاتی کیوں نہیں
میں تمہیں شاید پسند ہی اس لئے ہوں کہ تمہیں بتاتی کچھ نہیں۔
براہ کرم مجھے کہو کہ میں اولمپکس میں جاوں۔۔

ایک اور جگہ اس کی بیوی کہتی ہے ۔۔۔مجھے پتہ ہے تم سوچنے میں اچھے نہیں ہو اس لئے اس کام کو جانے دو۔

سچی بات ہے کہ ہمارے کو دل کو لگی ہے فلم۔۔۔ٹائم نکال کے ویکھ لیں۔۔۔ٹریلر پیش خدمت ہے

کچھ کاپی پیسٹ معلومات

Initial release: February 19, 2016 (USA)

Director: Stephen Hopkins

Box office: 21.5 million USD

Producers: Stephen Hopkins, Jean-Charles Levy, Kate Garwood,more

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←