Opens in a new tab

تقریر اور مباحثہ کے اشعار

جولائی 5, 2012  ·  1 منٹ کا مطالعہ

کتاب سادہ رھے گی کب تک ، کبھی تو آغاز باب ھوگا
جنہوں نے بستی اُجاڑ ڈالی ، کبھی تو اُنکا حساب ھوگا

سحر کی خوشیاں منانے والو ! سحر کے تیور بتارھے ھیں
ابھی تو اتنی گھٹن بڑھے گی کہ سانس لینا عذاب ھوگا

وہ دن گئے کہ جب ھر ستم کو ادائے محبوب کہہ کے چُپ تھے
اُٹھے گی ہم پر جو اینٹ کوئ تو پتھر اُسکا جواب ھوگا

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←