گدھے ڈرائیور

0
45

جیسے ہر نئی موت پر ایک نیا نوحہ لکھا جاتا ہے ایسے ہی ہرنئے حادثے پر وہی پرانی آنکھیں نئے آنسو روتی ہیں، پاکستان میں بسنے والوں کو کچھ پریشانیوں میں بسنے کی اتنی عادت ہو گئی ہے کہ اب یہ مسئلے ان کو مسئلے ہی نہیں لگتے، ان مسائل میں سے ایک بڑا مسئلہ ٹریفک کا بڑھتا ہوا دباو ، ٹریفک جیم ، ٹریفک کی آلودگی، اور سڑک پر چلنے یا سڑک استعمال کرنے کی تہذیب ہے۔ 


پاکستان کی سڑکوں پر ایک سے بڑھ کر ایک گدھا ڈرائیور آپ کو گاڑی چلاتا ہوا ملے گا، پچھلے دنوں کھانے والے گوشت میں گدھے کے گوشت کے ملاوٹ کی خبر تھی شاید اس کی کوئی کرامات ہے یا پڑھائی لکھائی نے اس قوم کا کچھ نہیں بگاڑا، دوسروں کو کوسنے، طعنے، مہنے دینے کی طبیعت کے پیش نظر ہماری ذاتی سوچ اور عمل وہی ہے کہ جیسا دیس ویسا بھیس، کہ جس طرح باقی ڈرائیور چل رہے ہیں ہم بھی ویسے ہی چلیں گے، ابھی پچھلے ہفتے کی بات ہے کہ لاہور کینال سے بحریہ ٹاون کی طرف جانے والی سڑک پر کم و بیش ڈیڑھ گھنٹہ ٹریفک جیم میں پھنسے رہے، وہاں موہلنوال کی طرف جانے والا ایک سگنل خراب تھا اور بس، اس چوراستے پر گھمسان کا رن جاری تھا، ٹریفک  کی رفتار کچھ تھمی تو بہت سی گاڑیوں نے سروس روڈ پر گاڑی اتار دی، جہاں تین لائینوں کی گنجائش تھی وہاں ساڑھے تین ، اور اڑھائی قسم کی لائینیں ترتیب پا گئی ، موٹر سائیکل سوار زگ زیگ کے انداز میں گاڑیوں والوں کی مجبوریوں پر ہنستے ہنساتے فٹ پاتھ پر چلنے لگے، کچھ لوگ موٹر سائیکلوں سے اتر کر درمیان کی پارٹیشن کو عبور کرکے ون وے کی خلاف ورزی کرکے سٹرک کے دوسری طرف جانے لگے، کچھ من چلے اپنی گاڑیوں سے اتر کر آگے کی طرف بھاگ دوڑے کہ پتہ کریں کہ آگے کیا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے سڑک پر ٹریفک رکی ہوئی ہے، ائیر کینڈیشن گاڑیوں کی کھڑکیاں آہستہ آہستہ کھلنے لگی، کچھ بے قرار ڈرائیور اپنی سیٹ کو چھوڑ کر دروازوں سے سر نکال کر جھانکنے لگے ، اتنے میں ایک ہارن بجاتی ایمبولینس کہیں سے آ دھمکی، ایمبولینس ڈرائیور اس کو سروس لائن کی طرف لے گیا لیکن سروس لائن پر بھی گاڑیاں ساکت کھڑی تھی، کسی طرف بھی ایک انچ جگہ نہ تھی کہ ایمبولینس کو جگہ دی جا سکے، ، ایسا لگ رہا تھا کہ اس شور میں ایمبولینس کا یوں چلاتے رہنا اور شور مچانا روز کا معمول ہو، کوئی ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا، اتنے میں نجانے کہاں سے پنجاب پولیس کے نوجوان دوڑتے ہوئے ایمبولینس کی طرف لپکے، انہوں نے آگے جانے والی گاڑیوں کی کھڑکیوں کو تھپتپایا، کچھ مردہ ضمیر لوگوں کے دل اور گاڑیوں پر دستک دی، تب جا کراس ایمبولینس کے کوئی جگہ بنی، اتنے میں اندازہ ہوا کہ پولیس کے سپاہی کسی بڑے پولیس آفیسر کے ساتھ گارڈ کے طور پر موجود تھے جو ہماری طرح ہی اس ٹریفک جیم کا حصہ تھے، کیوں کہ اس پولیس گاڑی کے لئے انہوں نے سروس روڈ کی ٹریفک کو بند کروا کے کچھ راستہ بنایا، اور اس کے بعد وہ اس معمولی ذمہ داری سے بھی آزاد ہوئے کہ وہ اس ٹریفک میں پھنسے ہوئے لوگوں کی  کچھ مدد کر سکتے، 


آگے نجانے کیا تھا کہ ٹریفک ایک انچ بھی اگے نہیں بڑھ رہی تھی، نہر پر موہلنوال کا اشارہ کچھ پانچ سو میٹر ہو گا، لیکن ٹریفک کے ایک اشارے کے دورانئیے میں جتنا ایک گاڑی کو اگے بڑھنا چاہیے تھا ٹریفک اتنا بھی آگے نہیں بڑھ رہی تھی، ہم کچھوے کی سی رفتار پر آگے رینگ رہے تھے، اس سست رفتاری کے باوجود بھی ہر ڈرائیور یہ چاہتا تھا کہ چند انچ ہی سہی اس کی گاڑی دوسری گاڑیوں سے آگے رہے، طبل جنگ کی طرح ہارن بجائے جا رہے تھے، کھڑکی کھول کر دوسرے ڈرائیور کو اس کے گدھے پن پر صلواتین سنانے والے بھی کم نہ تھے، رفتہ رفتہ ہم اس چوک تک آ پہنچے، جس کے دائیں طرف لاہور ملتان روڈ، بائیں طرف بھوبتیاں چوک، سامنے بحریہ اور پیچھے لاہور ہے، یہاں خرابی بس یہ تھی کہ ٹریفک کا سنگنل خراب تھا اور یہ ساری بھیٹر ایک ٹریفک سارجینٹ کے کنٹرول سے باہر تھی، وہ اپنی پشت جس جانب کر کے کھڑا تھا، لوگ رینگتے رینگتے اس کو مس کرنے کے قریب تھے، تین اطراف کے لوگ بس اپنی مرضی سے اس چوک سے گذر رہے تھے صرف اور صرف اس بدنظمی کی وجہ سے ٹریفک کی یہ صورت حال ہوئی تھی، بصورت دیگر وہاں کوئی بھی اور غیر معمولی صورت حال نہ تھی جس کی وجہ سے ٹریفک جیم ہو۔ ہم اس چوراہے کے درمیان تک آ پہنچے تو معلوم ہوا کہ کچھ عام شہری اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو اس بھیڑ سے نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس گروپ میں موجود کچھ لوگوں کا مرکز و محور ان کی اپنی واحد گاڑی تھی جو پیچھے کہیں بھیڑ میں موجود تھی، لیکن پھر بھی ان کا یہ قدم اس طرح کی بھیڑ میں ایک احسن قدم ہی کہا جا سکتا ہے ، لیکن اس طرح کے کئی ایک لوگ موجود تھے جس کی وجہ سے اس چوراستے پر کون کس کی مانے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا، ہمارا خیال تھا کہ ہم وہیں سے لاہور ملتان روڈ پر چلے آئیں گے لیکن ہمیں اس رش میں یہی مناسب لگا کہ آگے بحریہ کی طرف چلے جائیں۔ 


اس دن کے بعد کل رات کو  اوکاڑہ جاتے ہوئے، درجنوں دفعہ ایسا ہوا کہ آپ ایک ہیوی ٹرک کو کراس کر رہے ہیں اور پیچھے والی گاڑی والا آپ کو مسلسل ڈپر دے رہا ہے، اب اس سے کوئی بندا پوچھے ابے گدھے، یہ بڑی گاڑی کراس ہو گی تو تجھے راستہ ملے گا ناں؟  

سڑک پر چلتے چلتے جا بجا احساس ہوتا کہ سب کسی انجانی منزل کی طرف جا رہے ہیں اور ہر کسی کو اپنی منزل پر جلد از جلد جانا ہے، اس کے لئے اس کو ون وے کی خلاف ورزی کرنا پڑے، گاڑی کو غلط سائیڈ سے اوور ٹیک کرنا پڑے، سپیڈ لمٹ کی خلاف ورزی کرنا پڑے ، یعنی جو کچھ تصور کیا جا سکتا ہے، لوگ با آسانی قوانین کو ہاتھ میں لیتے دکھائی دیتے ہیں، رات کے اندھیرے میں بنا ریفلیکٹر سست رفتار گاڑیاں یا دیگر ٹریفک بغیر کسی حفاظتی سوچ کے جی ٹی روڈ یا مین ہائی وے پر دندناتی دکھائی دیتی ہے۔ 


کیا ان ، ان پڑھ ڈرائیورز کی فوج ظفر موج کو کوئی لگام ڈال پائے گا، یہ جو جاہل ہر قطار سے باہر نظر آتے ہیں، جن کو دائیں یا بائیں اوورٹیک سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جن کے لئے ون وے کی خلاف ورزی کچھ معنی نہیں رکھتی، جن کے لئے چند منٹ بچانے کے لئے جان ہتھیلی پر رکھنا بہت آسان ہوا پھرتا ہے، کون ہے جو ان کو سمجھائے، آپ گھنٹوں ایک چوراہے پر سینگ پھنسائے کھڑے رہنے کو تیار ہیں لیکن ایک لائن کی پابندی کرنے کو تیار نہیں، کیا کوئی آسمان سے آ کر ان کو بتائے گا کہ ایک دوسرے کے پیچھے چلیں گے تو منزل سب کی آسان ہو جائے گی۔ 


چلئے سڑک پر ٹریفک تو آپ کے بس سے باہر ہے ہی لیکن جو لوگ پیدل ہیں وہ عقل سے پیدل تو نہیں، جہاں سے دل چاہا کراس کر لیا، کیا ہمارا نصاب اور نظام تعلیم ہمیں جینے کی اس قدر کی سعی کرنے کا درس دے رہا ہے، کیا سکول و کالج کے طالب علم سڑک پر چلنے کے آداب سے زیادہ اچھے انداز میں آشنا ہیں، کسی سکول کے باہر چلئیے چلیے اور ماتم کیجئے اس نظام تعلیم کا بھی جس کا واحد مقصد آپ کے نمبروں میں اضافہ کرنا ہے


جب کبھی چار چھ ماہ بعد یورپ سے پاکستان آتا ہوں تو عوام الناس کو سڑکوں پر ایک دوسرے کے ہاتھوں ذلیل ہوتے دیکھتا تو ان لوگوں پر ترس آتا ہے، کہ یہ کس عذاب میں مبتلا ہیں، ایسا جنگل جہاں ہر کوئی دوسرے کے سینگ سہنے کا عادی ہو چکا ہے۔ ان کو احساس تک نہیں کہ اس دوڑ میں وہ ایک دوسرے کا کیا حال کئے جا رہے ہیں،اس بے ہنگم ٹریفک کا حل کیا ہے، ۔۔کاش ہم سب سوچیں۔۔۔کاش   ہم انسان بننا سیکھ جائیں اور گدھے پن سے باز آئیں۔ 

۔ لیکن اس نئے نوحے کو کون سنے کا، میرے سب سے کم پڑھے جانے والے بلاگز میں ایک نیا بلاگ اور بس۔۔۔کاش اے کاش کوئی جاگے۔۔۔اور اس ہجوم کو سڑک پر چلنے کے درس سے آشنا کردے۔ 

تبصرہ کریں

برائے مہربانی اپنا تبصرہ داخل کریں
اپنا نام داخل کریں