Opens in a new tab

بارے حبیب جالب کے

اپریل 9, 2015  ·  1 منٹ کا مطالعہ

حبیب جالب

اصل نام حبیب احمد

تاریخ پیدائش 28 فروری 1928

شعری مجموعے

برگ آواراہ

سرمقتل

عہد ستم

گوشہ میں قفس کے

ذکر بہتے خون کا

عہد سزا

حرف حق

اس شہر خرابی میں

حرف سردار۔کلیات

مجموعی طور پر سات سال جیل کاٹی، 12 مارچ 1993 کو وفات پائی۔

ایک ہمیں آوارہ کہنا کوئی بڑا الزام نہیں

دنیا والے دل والوں کو اور بہت کچھ کہتے ہیں

نہ ڈگمگائے کبھی ہم وفا کے رستے میں

چراغ ہم نے جلائے ہوا کے رستے میں

کوئی تو پرچم لیکر نکلے اپنے گریباں کا جالب

چاروں جانب سناٹا ہے دیوانے یاد آتے ہیں

زمانہ تو یونہی روٹھا رہے گا

چلو جانب انہیں چل کر منا لیں

اس شہر خرابی میں غم عشق کے مارے

زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے

کچھ اور بھی ہیں کام ہمیں اے غم جاناں

کب تک کوئی الجھی ہوئی زلفوں کو سنوارے

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←