Opens in a new tab

ہر شخص ہے سنجیدہ ۔۔۔۔۔

مارچ 3, 2015  ·  1 منٹ کا مطالعہ

خود کو سمجھاتا ہوں
کہ اب جوانی نام کا دریا بہت دور رہ گیا
وہ گاوں جس میں سفید کنپٹیووں والے ادھیڑ عمر بستے ہیں
بس آنے والا ہے
پھر اس کے بعد کمر کو جھکائے ، کھانستے جانے والے بابوں کی بستی ہے ۔
خود کو سمجھاتا ہوں
کہ خود کو سنبھالو کہ
آنے والی بستی کا ہر شخص سنجیدہ ہے
یہاں لوگ بولتے ہیں، بات کرتے ہیں
کبھی کبھی مسکراتے ہیں
مگر قہقہہ کوئی نہیں لگاتا
خود کو سمجھاتا ہوں مگر
ابھی دل پر جوانی کا بچپنا سا طاری ہے
ذہن مجھ کو ڈراتا ہے
بتاتا ہے
کہ وہ وقت آنے والا ہے
جب لوگوں کی خاطر خود کو تم بدل لو گے
لب وہ لہجہ تبدیل کر لو گے
آنے والی بستی کا خوف مجھ پر طاری ہے۔
سوچتا ہوں میں
ایک پل کو ہنس لوں
جی کھول کر مچل لوں میں
کہ پھر آنے والی بستی میں ہر شخص ہے سنجیدہ
۔۔۔۔۔

نوٹ
ناسمجھی کے دور میں بہت سے نظمیں لکھیں، درجنوں کے حساب سے غزلیں جوڑیں، اور پھر کچھ شاعروں کو دیکھا تو سمجھ آئی ، کہ جو کچھ ہم نے لکھا وہ ادب کی مروجہ اقسام سے ہٹ کر ہے،یعنی کچھ اور ہے شاعری نہیں۔۔۔ یہ بے تکی سی باتیں جن کا مفہوم میرے سوا کوئی نہیں سمجھتا۔۔۔آج بہت عرصے بعد خیالات سے کوئی تصویر نہیں بن پا رہی، کچھ لکھا نہیں جارہا۔۔۔۔اپنی عمر ڈھلنے کا ماتم ۔۔۔میرے الفاظ کے احاطے سے باہر ہے۔۔۔میرے بے ربط الفاظ کی مماثلت کسی ادبی صنف میں تلاش نہ کی جائے ۔۔۔

محمد رمضان رفیق
محمد رمضان رفیق

چیچہ وطنی سے تعلق، زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے فارغ التحصیل اور کوپن ہیگن ڈنمارک میں مقیم۔ زراعت، سماج، سیاست اور سفر پر لکھتے ہیں۔

مکمل تعارف ←